افغان طالبان کی عبوری حکومت نے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان چین کے راستے نئی ٹرانزٹ ٹریڈ راہداری کے قیام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس ضمن میں کابل حکام نے کرغزستان کو ایک باضابطہ مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں جنوبی ایشیا کی مارکیٹوں تک رسائی کے لیے افغانستان سے گزرنے والے پرانے روایتی راستوں کی بحالی پر مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے۔
افغانستان کا مؤقف
طالبان حکام کا موقف ہے کہ افغانستان سے گزرنے والے تجارتی راستے علاقائی رابطوں اور مال برداری کے لیے زیادہ ترقی یافتہ، کم فاصلہ اور مؤثر ہیں۔ افغان وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور کرغزستان کے درمیان ہونے والے ان نئے انتظامات نے نہ صرف روایتی تجارتی روٹس کو متاثر کیا ہے بلکہ اس سے افغانستان کے تزویراتی معاشی مفادات کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

نئی راہداری کے اثرات
واضح رہے کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان چین کے راستے اس نئی راہداری کے فعال ہونے سے کرغزستان سمیت تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان اور ازبکستان کو کراچی کی بندرگاہ تک براہِ راست رسائی حاصل ہو جائے گی۔ یہ نیا روٹ افغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب سے جوڑتا ہے، جس سے خطے کی تجارت میں افغانستان کا وہ کلیدی ٹرانزٹ کردار محدود ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جو اسے جغرافیائی لحاظ سے حاصل تھا۔
مستقبل کے چیلنجز
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اس نئی راہداری کی کامیابی سے جہاں پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی آسان ہوگی، وہی افغانستان کو ٹرانزٹ فیس اور تجارتی سرگرمیوں کی مد میں ہونے والے ریونیو میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کابل کی جانب سے کرغزستان کو مذاکرات کی دعوت اسی معاشی اثر کو زائل کرنے کی ایک کوشش قرار دی جا رہی ہے۔