پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے موصول ہونے والی اہم ترین خبر کے مطابق، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے درمیان ایک تزویراتی اہمیت کی حامل ملاقات کا آغاز ہو گیا ہے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات کو خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
سول و عسکری قیادت کی شرکت
اس ملاقات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی وفد میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک ہیں۔ ایرانی وفد اور پاکستان کی اعلیٰ ترین سول و عسکری قیادت کے درمیان ہونے والی اس گفتگو میں علاقائی سیکیورٹی اور دوطرفہ دفاعی و سفارتی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
The Iranian Foreign Minister along with his delegation met with Prime Minister Shahbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir pic.twitter.com/UXtKH8BczR
— Ehtisham ul haq (@ehtishamulhaq87) April 25, 2026
پاکستان کا مصالحتی کردار
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان برف پگھلانے کے لیے ایک مؤثر اور بااعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، ملاقات کا مرکزی ایجنڈا علاقائی استحکام کی بحالی اور ایران و امریکہ کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ’گڈ آفسز‘ کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
تزویراتی مشاورتی عمل
اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال، غزہ کی جنگ کے علاقائی اثرات اور پاک ایران سرحد پر سکیورٹی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ کے اس دورے اور پاکستان کی مقتدر قیادت کے ساتھ ان کی یہ نشست خطے میں امن و امان کی بحالی اور جاری جنگی خطرات کو ٹالنے کی کوششوں کا ایک کلیدی حصہ ہ