افغانستان کی معروف سیاسی شخصیت اور حزب وحدت اسلامی مردم افغانستان کے سربراہ محمد محقق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر “اسلامی جمہوریہ ہزارستان” کے پرچم کی تصویر شیئر کی ہے، جس میں ان کے ہمراہ عبدالعلی مزاری کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ یہ اقدام ان کے اس حالیہ بیان پر ہونے والی شدید تنقید کے ردعمل میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو ایک باقاعدہ بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرنے کی بات کی تھی۔
ملک فروشی کے الزامات کی تردید
ڈیورنڈ لائن سے متعلق مؤقف پر بعض سیاسی حلقوں نے محمد محقق پر سخت اعتراضات کیے اور ان پر “ملک فروشی” کے الزامات عائد کیے۔ ان الزامات کے جواب میں محقق نے اپنی ایک پرانی تحریر دوبارہ شیئر کی جس میں انہوں نے تاریخی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اب بیچنے کے لیے کچھ باقی نہیں بچا۔ انہوں نے لکھا کہ ماضی کے حکمرانوں نے مختلف ادوار میں برطانوی ہند کے ساتھ معاہدے کر کے مراعات حاصل کیں اور ملک کی سرزمین کے سودے کیے۔
تاریخی معاہدوں کا حوالہ
محمد محقق نے اپنے پیغام میں تاریخی شخصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاہ شجاع نے 1838 میں، محمد یعقوب نے 1879 میں اور عبدالرحمٰن خان نے 1893 میں سالانہ وظائف کے عوض اس خطے کے حوالے سے فیصلے کیے۔ انہوں نے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایک صدی تک ملک کے مختلف حصوں کے سودے کرنے والوں کے پاس اب دوسروں پر الزام تراشی کا کوئی جواز نہیں ہے۔
مستقبل کا اشارہ
پرچم کی تصویر کے ساتھ محمد محقق نے قرآنی آیت کا مفہوم “اللہ کی طرف سے فتح اور ایک قریب آنے والی کامیابی” بھی تحریر کیا ہے، جسے سیاسی حلقوں میں ایک اہم اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ افغانستان کی سیاست میں ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہا ہے اور محقق کے حالیہ بیان نے ملک کی سیاسی فضا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔