مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے ایک بار پھر گہرے ہونے لگے ہیں، جس کے پیشِ نظر چین نے ایران میں موجود اپنے تمام شہریوں کے لیے دوسرا ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔ ایران میں متعین چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹس میں صورتحال کی سنگینی کو واضح کیا گیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق چینی سفارت خانے کا یہ دوسرا ہنگامی نوٹس ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی غیر یقینی اور تشویشناک ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ بیجنگ کی جانب سے پہلا ہنگامی حکم نامہ رواں برس 27 فروری کو جاری کیا گیا تھا، جس کے ٹھیک ایک روز بعد باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو گیا تھا۔ اب دوسرے نوٹس کے اجرا نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ کیا خطہ ایک بار پھر کسی بڑے فوجی تصادم کی لپیٹ میں آنے والا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بین الاقوامی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کا کاؤنٹ ڈاؤن جاری ہے اور دنیا بھر کی نگاہیں اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ سفارتی ملاقاتوں پر لگی ہوئی ہیں۔ بیجنگ کے اس اقدام کو دفاعی ماہرین خطے میں ممکنہ کشیدگی یا جنگ بندی کے معاہدے کی ناکامی کے پیشِ نظر احتیاطی تدبیر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کمرشل پروازوں کی دستیابی تک جلد از جلد ایران سے نکل جائیں اور اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں۔