جنگ جنگ ہوتی ہے جناب اور اس کے کچھ منطقی اثرات ہوتے ہیں۔ جنہیں جنگوں کا بہت شوق ہو اور امن کی کوششیں جنہیں اچھی نہ لگیں، انہیں مہنگے پٹرول پر تنقید نہیں، ابرار الحق صاحب کی سربراہی میں رقص کرنا چاہیے۔

April 26, 2026

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطہ اس تبدیلی کو برداشت کر پائے گا یا یہ ایک بڑے اور خطرناک مقابلے میں تبدیل ہو جائے گا جہاں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تنازع صرف ان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اتحادیوں، مفادات اور عزائم کے ایک پیچیدہ جال کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

April 25, 2026

دوسرے دور کے مذاکرات کی توقع 22 اپریل کو تھی، مگر کشیدگی کے باعث تاخیر ہوئی۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر غیر یقینی نہیں بلکہ امریکی رویے کے تضادات کی وجہ سے ہے۔ اس کے باوجود، رابطے جاری ہیں اور مذاکرات کا اگلا دور متوقع ہے۔

April 25, 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت میں ‘کنفیوژن’ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے نمائندوں کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا؛ ایران کو براہِ راست کال کرنے کا مشورہ۔

April 25, 2026

اسلام آباد کا جناح کنونشن سینٹر عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا؛ غیر ملکی مندوبین نے پاکستان کو امن کا دل جبکہ مشہور سیاح شان ہیمنڈز نے اسے دنیا کی بہترین سیاحتی منزل قرار دے دیا۔

April 25, 2026

سپارکو نے مقامی سطح پر تیار کردہ ‘الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ’ (ای او-3) کامیابی سے خلاء میں روانہ کر دیا، وزیراعظم نے اس کامیابی کو ملکی ترقی کے لیے سنگِ میل قرار دیا۔

April 25, 2026

ایران اور امریکہ بالواسطہ مذاکرات پر متفق: پاکستان کی تجویز پر نیا سفارتی فارمولا طے پا گیا

ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات عوامی دباؤ کے باعث تعطل کا شکار؛ پاکستان کی تجویز پر اب بالواسطہ سفارت کاری کے ذریعے معاملات حل کیے جائیں گے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات عوامی دباؤ کے باعث تعطل کا شکار؛ پاکستان کی تجویز پر اب بالواسطہ سفارت کاری کے ذریعے معاملات حل کیے جائیں گے۔

حیدر نقوی کا انکشاف: ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز۔ پاکستان، عمان اور روس ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ تہران کا مطالبات کی منظوری تک براہِ راست ملاقاتوں سے انکار۔

April 25, 2026

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک نیا سفارتی لائحہ عمل سامنے آیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اب براہِ راست کے بجائے بالواسطہ مذاکرات کا سہارا لیں گے۔ معروف جیو پولیٹیکل تجزیہ نگار حیدر نقوی کے مطابق، مذاکرات کے پہلے دور میں براہِ راست ملاقاتوں پر ایرانی عوام کی جانب سے شدید ردِعمل اور غصے کے اظہار کے بعد دوسرے دور کو منسوخ کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اب پاکستان کی تجویز پر بالواسطہ رابطوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

پاکستان کا کلیدی کردار

ذرائع کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا جب تک واشنگٹن ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کر لیتا۔ اس تعطل کو توڑنے کے لیے پاکستان نے ایک درمیانی راستہ تجویز کیا ہے، جس کے تحت اب پاکستان، عمان اور روس جیسے دوست ممالک دونوں طاقتوں کے درمیان پیغام رسانی کا فریضہ انجام دیں گے۔

اس نئے اسٹریٹجک پلان کے تحت ایران اور امریکہ ان ممالک کے ذریعے اپنے تحفظات اور تجاویز ایک دوسرے تک پہنچائیں گے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب تک ان بالواسطہ رابطوں کے نتیجے میں کچھ حوصلہ افزا نتائج حاصل نہیں ہو جاتے، تب تک براہِ راست ملاقاتیں معطل رہیں گی۔ تاہم، اس دوران دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین کے درمیان رابطے برقرار رہیں گے تاکہ اہم معاملات پر پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طریقہ کار سے نہ صرف عوامی دباؤ کو کم کیا جا سکے گا بلکہ پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے ٹھوس نتائج حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

علاقائی امن پر اثرات

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس نئے سفارتی فریم ورک میں پاکستان کا مرکزی کردار ایک بار پھر عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو ثابت کر رہا ہے۔ اگر یہ بالواسطہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو اس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹ جائیں گے بلکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان نصف صدی سے جاری سرد مہری کے خاتمے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جنگ جنگ ہوتی ہے جناب اور اس کے کچھ منطقی اثرات ہوتے ہیں۔ جنہیں جنگوں کا بہت شوق ہو اور امن کی کوششیں جنہیں اچھی نہ لگیں، انہیں مہنگے پٹرول پر تنقید نہیں، ابرار الحق صاحب کی سربراہی میں رقص کرنا چاہیے۔

April 26, 2026

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطہ اس تبدیلی کو برداشت کر پائے گا یا یہ ایک بڑے اور خطرناک مقابلے میں تبدیل ہو جائے گا جہاں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تنازع صرف ان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اتحادیوں، مفادات اور عزائم کے ایک پیچیدہ جال کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

April 25, 2026

دوسرے دور کے مذاکرات کی توقع 22 اپریل کو تھی، مگر کشیدگی کے باعث تاخیر ہوئی۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر غیر یقینی نہیں بلکہ امریکی رویے کے تضادات کی وجہ سے ہے۔ اس کے باوجود، رابطے جاری ہیں اور مذاکرات کا اگلا دور متوقع ہے۔

April 25, 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت میں ‘کنفیوژن’ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے نمائندوں کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا؛ ایران کو براہِ راست کال کرنے کا مشورہ۔

April 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *