اقتدار کی ہوس اور ایک ریاست کا زوال
آج سے ٹھیک 48 برس قبل، کابل میں فوجی افسران کے ایک ٹولے نے نہ صرف ایک صدارت اور ایک خاندان کا چراغ گل کیا، بلکہ افغانستان کے اس نازک سیاسی نظم و ضبط کو بھی پیوندِ خاک کر دیا جو بڑی مشکل سے پنپ رہا تھا۔ 27 اپریل 1978 کو شروع ہونے والی اس وحشیانہ فوجی بغاوت میں افغانستان کے پہلے صدر سردار محمد داؤد خان کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ سوویت یونین کی آلہ کار ‘پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان نے اس دن جس طرزِ حکمرانی کی بنیاد رکھی، وہ طاقت کے زور پر مسلط کیا گیا ایک ایسا جبر تھا جس کے آہنی شکنجے سے یہ ملک آج تک آزاد نہ ہو سکا۔
وہ چنگاری جس نے خرمنِ امن کو جلا ڈالا
اس نام نہاد انقلاب کا فوری بہانہ 17 اپریل 1978 کو بنا، جب ‘پرچم’ دھڑے کے قد آور نظریاتی رہنما میر اکبر خیبر کو کابل میں قتل کیا گیا۔ پی ڈی پی اے نے اس کا ملبہ حکومت پر ڈالا۔ 19 اپریل کو خیبر کا جنازہ ایک تلاطم خیز احتجاجی لہر میں بدل گیا جہاں ہزاروں کمیونسٹ حامی کابل کی سڑکوں پر دہائیاں دیتے نکل آئے۔ داؤد حکومت نے بوکھلاہٹ میں کریک ڈاؤن کیا اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو پابندِ سلاسل کر دیا، مگر یہی اقدام ان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔
وہ جمہوریہ جو اپنے ہی خالق کو کھا گئی
انقلابِ ثور نے اس صدر داؤد کا تختہ الٹا جنہوں نے خود 1973 میں اپنے کزن شاہ ظاہر شاہ کو معزول کر کے اقتدار چھینا تھا۔ داؤد نے بندوق کو انتقالِ اقتدار کا ذریعہ بنا کر اسے جو جواز بخشا، پانچ سال بعد وہی بندوق ان کے اپنے سینے کے سامنے تنی کھڑی تھی۔ قلعہ بالا حصار میں تعینات سوویت تربیت یافتہ افسر شاہ نواز تانی کو صدارتی محل گرانے کے خفیہ احکامات مل چکے تھے۔ 28 اپریل کو تانی کے کمانڈوز ارگ (صدارتی محل) میں داخل ہوئے اور داؤد خان کو ان کے خاندان کے 17 افراد سمیت ابدی نیند سلا دیا۔ امریکی سفارتی مراسلے گواہ ہیں کہ داؤد خان کو باغی کونسل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا موقع دیا گیا، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ افغانستان کا پہلا صدر اس ریاست کی حفاظت میں جان دے گیا جسے وہ کبھی ڈھنگ سے تعمیر ہی نہ کر سکا تھا۔
پشتونستان کا سراب اور ریاست کی کمزوری
داؤد خان کی سب سے بڑی سٹریٹجک غلطی ایک ‘جنون’ کو ‘حکمتِ عملی’ سمجھ لینا تھی۔ انہوں نے دوبارہ اقتدار میں آتے ہی ‘پشتونستان’ کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالی، بلوچ باغیوں اور پاکستانی پشتون قوم پرستوں کو پناہ اور اسلحہ فراہم کیا۔ چونکہ ان کی یہ پالیسی ایران، عرب دنیا یا مغرب کے لیے ناقابلِ قبول تھی، اس لیے وہ ماسکو کے اس قدر محتاج ہو گئے کہ ملک اس کا بوجھ نہ اٹھا سکا۔ جو حکومت دوسروں کے نقشے بگاڑنے میں مگن ہو، وہ اپنا گھر سنوارنے کی مہلت کہاں پاتی ہے؟ ان کے معاشی منصوبے ٹھپ ہو گئے، یک جماعتی آمریت نے دوستوں کو دشمن بنا دیا اور ان کی خارجہ پالیسی نے سوویت ریچھ کو وہ راستہ دے دیا جس کی اسے تلاش تھی۔
سرد جنگ کے کھلاڑی اور تباہی کا دہانہ
افغانستان کی بربادی میں صرف داخلی انتشار کا ہاتھ نہیں تھا۔ اسٹینفورڈ کے ہوور انسٹی ٹیوشن کی تحقیق بتاتی ہے کہ 1977 تک، جو افغانستان کا آخری پرامن سال تھا، کسی عالمی قوت کے پاس اس ملک کے لیے کوئی بڑا ایجنڈا نہیں تھا۔ مگر 1978 کی بغاوت نے عالمی طاقتوں کو ایک ایسے اندھے مقابلے میں دھکیل دیا جہاں حقائق سے زیادہ خوف غالب تھا۔ 1979 تک سپر پاورز کی آپسی رسہ کشی نے ملک کو مکمل خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیا۔ سرد جنگ نے افغانستان کے مسائل پیدا تو نہیں کیے تھے، مگر اس نے ان مسائل کو ایک ایسی عالمگیر تباہی میں بدل دیا جس کی تپش آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔
انقلاب کے ثمرات: جبر، خون اور وحشت
بغاوت کے بعد کا منظرنامہ خود بغاوت سے کہیں زیادہ بھیانک تھا۔ اپریل 1978 سے اکتوبر 1979 کے مختصر عرصے میں ‘خلق’ دھڑے کے کمیونسٹوں نے سیاسی تطہیر کے نام پر 50 ہزار افغانوں کا قتلِ عام کیا، جن میں سے 27 ہزار تو صرف پلِ چرخی جیل کی نذر ہو گئے۔ پی ڈی پی اے نے زمینوں کی ضبطگی اور جبری سیکولرائزیشن کے جو سوویت نسخے مسلط کیے، دیہی افغانستان نے ان کا جواب اپنے لہو سے دیا۔ وہ انقلاب جو روسی درسی کتابوں سے درآمد کیا گیا تھا، افغان مٹی نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
تاریخ کا عبرتناک تسلسل
7 ثور کے زخم آج بھی اس لیے ہرے ہیں کیونکہ حکمرانی کی وہی پرانی بیماریاں آج بھی افغانستان کے جسم میں سرائیت کیے ہوئے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن پر طالبان کا مبہم رویہ اور ٹی ٹی پی کی پشت پناہی بالکل داؤد خان کے اس حساب کتاب کا عکس ہے کہ پشتونستان کا مسئلہ حل کرنے کے بجائے اسے بطور ‘لیوریج’ استعمال کرنا زیادہ مفید ہے۔
آج کی گورننس کا حال بھی ماضی سے مختلف نہیں۔ 2021 سے اب تک معیشت 30 فیصد سکڑ چکی ہے، لاکھوں ملازمتیں ختم ہو گئیں اور 75 فیصد آبادی دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے۔ 25 لاکھ بچیاں تعلیم کے حق سے محروم ہیں۔ ایک ایسی حکومت جس نے اپنی آدھی آبادی کو معاشی اور تعلیمی طور پر مفلوج کر دیا ہو، اس نے دراصل ریاست کی تعمیر کے بجائے صرف اپنے کنٹرول کو ترجیح دی ہے۔ داؤد خان نے بھی یہی راستہ چنا تھا۔ 1978 سے اب تک ہر افغان حکومت ایک ہی طرح کی ناکامی کا شکار ہوئی ہے: انتظام سنبھالنے سے پہلے اقتدار پر قبضہ، سفارتی دانشمندی کے بجائے علاقائی اشتعال انگیزی، اور نظریے کو صرف اقتدار کے لبادے کے طور پر استعمال کرنا۔
48 سال بیت گئے، مگر 28 اپریل 1978 کی اس اداس صبح اٹھنے والے سوالات آج بھی کابل کی فضاؤں میں گونج رہے ہیں: افغانستان پر کون حکومت کرے گا؟ کس کے لیے کرے گا؟ اور اس سفر کی منزل کیا ہے؟ یہ سوالات آج بھی اتنے ہی تشنہِ جواب ہیں جتنے نصف صدی قبل تھے۔
دیکھئیے:باجوڑ آپریشن میں ہلاک ٹی ٹی پی دہشت گرد سابق افغان نائب وزیر کا بھتیجا نکلا