دوشنبہ: تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے انکشاف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کے باعث ملک میں موجود 14,000 گلیشیئرز میں سے 1,300 سے زائد مکمل طور پر پگھل کر ختم ہو چکے ہیں۔ آستانہ میں موسمیاتی تبدیلیوں اور پائیدار ترقی کے موضوع پر منعقدہ علاقائی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی وسطی ایشیا کے آبی وسائل پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے، جو پورے خطے کے لیے ایک بڑا ماحولیاتی اور معاشی خطرہ ہے۔
تاجکستان وسطی ایشیا کے 60 فیصد آبی وسائل کا منبع ہے، اسی لیے وہاں گلیشیئرز کا سکڑنا براہِ راست آمو دریا اور سیر دریا جیسے مشترکہ دریاؤں کے بہاؤ کو متاثر کر رہا ہے۔ صدر رحمان نے واضح کیا کہ یہ رجحان زراعت اور توانائی کی پیداوار پر انحصار کرنے والے نشیبی ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تنزلی کی ایک اور ہولناک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برس تاجکستان میں گرد و غبار کے 60 سے زائد طوفان ریکارڈ کیے گئے جو مجموعی طور پر سات ماہ تک جاری رہے، جبکہ 90 کی دہائی میں ایسے واقعات سال میں صرف چند بار ہی پیش آتے تھے۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے تاجکستان نے دوشنبہ میں عالمی موسمیاتی تنظیم کے تعاون سے ایک علاقائی گلیشیئر مانیٹرنگ سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ صدر امام علی رحمان نے علاقائی کاربن مارکیٹ کی تجویز بھی پیش کی تاکہ ماحولیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری راغب کی جا سکے۔ قومی سطح پر تاجکستان نے 2040 تک ایک ارب درخت لگانے کا طویل مدتی پروگرام شروع کیا ہے اور وہ مئی 2026 میں دوشنبہ میں ایک بین الاقوامی واٹر کانفرنس کی میزبانی بھی کرے گا، جہاں 2030 تک پانی کے انتظام اور سیکیورٹی پر عالمی ماہرین مشاورت کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیا میں پانی کا انتظام اب صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ترجیح بن چکا ہے جس پر علاقائی استحکام کا دارومدار ہے۔
دیکھئیے:پاکستان اور کرغزستان کے درمیان براہِ راست تجارتی راہداری پر کابل کے تحفظات، کرغزستان کو مراسلہ ارسال