حکومت نے دفترِ خارجہ سے بھی درخواست کی ہے کہ صومالی حکومت کے ساتھ فوری سفارتی رابطہ قائم کیا جائے تاکہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور بحفاظت رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

April 27, 2026

موجودہ افغان رجیم کے پاس اپنے عوام کو دینے کے لیے نہ تو کوئی سروس ہے، نہ فلاحی منصوبہ اور نہ ہی بہتر گورننس، اسی لیے وہ صرف غلط اطلاعات اور نفرت پر مبنی بیانیے پر انحصار کر رہی ہے۔

April 27, 2026

اگر ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہیں، تو یہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک بہت بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات برابری کی بنیاد اور باہمی احترام کے اصولوں پر ہوں گے۔

April 27, 2026

دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی اصل تعداد کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

April 27, 2026

اس بحران سے نمٹنے کے لیے تاجکستان نے دوشنبہ میں عالمی موسمیاتی تنظیم کے تعاون سے ایک علاقائی گلیشیئر مانیٹرنگ سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ صدر امام علی رحمان نے علاقائی کاربن مارکیٹ کی تجویز بھی پیش کی تاکہ ماحولیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری راغب کی جا سکے۔

April 27, 2026

صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ چین کے ان صوبوں پر مرکوز ہے جو صنعتی، زرعی اور تکنیکی اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق صدر زرداری کی جانب سے ہونان اور ہینان کا انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب چین کے ساتھ تعاون کو صرف وفاقی سطح تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ صوبائی اور علاقائی سطح پر بھی اشتراکِ عمل کا خواہاں ہے۔

April 27, 2026

وسطی ایشیا پر آبی قیامت کے سائے؛ تاجکستان میں 1300 سے زائد گلیشیئرز غائب ، صدر امام علی رحمان کا انتباہ

اس بحران سے نمٹنے کے لیے تاجکستان نے دوشنبہ میں عالمی موسمیاتی تنظیم کے تعاون سے ایک علاقائی گلیشیئر مانیٹرنگ سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ صدر امام علی رحمان نے علاقائی کاربن مارکیٹ کی تجویز بھی پیش کی تاکہ ماحولیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری راغب کی جا سکے۔
وسطی ایشیا میں گلیشیئرز کا خاتمہ

تاجکستان وسطی ایشیا کے 60 فیصد آبی وسائل کا منبع ہے، اسی لیے وہاں گلیشیئرز کا سکڑنا براہِ راست آمو دریا اور سیر دریا جیسے مشترکہ دریاؤں کے بہاؤ کو متاثر کر رہا ہے۔

April 27, 2026

دوشنبہ: تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے انکشاف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کے باعث ملک میں موجود 14,000 گلیشیئرز میں سے 1,300 سے زائد مکمل طور پر پگھل کر ختم ہو چکے ہیں۔ آستانہ میں موسمیاتی تبدیلیوں اور پائیدار ترقی کے موضوع پر منعقدہ علاقائی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی وسطی ایشیا کے آبی وسائل پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے، جو پورے خطے کے لیے ایک بڑا ماحولیاتی اور معاشی خطرہ ہے۔

تاجکستان وسطی ایشیا کے 60 فیصد آبی وسائل کا منبع ہے، اسی لیے وہاں گلیشیئرز کا سکڑنا براہِ راست آمو دریا اور سیر دریا جیسے مشترکہ دریاؤں کے بہاؤ کو متاثر کر رہا ہے۔ صدر رحمان نے واضح کیا کہ یہ رجحان زراعت اور توانائی کی پیداوار پر انحصار کرنے والے نشیبی ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تنزلی کی ایک اور ہولناک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برس تاجکستان میں گرد و غبار کے 60 سے زائد طوفان ریکارڈ کیے گئے جو مجموعی طور پر سات ماہ تک جاری رہے، جبکہ 90 کی دہائی میں ایسے واقعات سال میں صرف چند بار ہی پیش آتے تھے۔

اس بحران سے نمٹنے کے لیے تاجکستان نے دوشنبہ میں عالمی موسمیاتی تنظیم کے تعاون سے ایک علاقائی گلیشیئر مانیٹرنگ سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ صدر امام علی رحمان نے علاقائی کاربن مارکیٹ کی تجویز بھی پیش کی تاکہ ماحولیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری راغب کی جا سکے۔ قومی سطح پر تاجکستان نے 2040 تک ایک ارب درخت لگانے کا طویل مدتی پروگرام شروع کیا ہے اور وہ مئی 2026 میں دوشنبہ میں ایک بین الاقوامی واٹر کانفرنس کی میزبانی بھی کرے گا، جہاں 2030 تک پانی کے انتظام اور سیکیورٹی پر عالمی ماہرین مشاورت کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیا میں پانی کا انتظام اب صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ترجیح بن چکا ہے جس پر علاقائی استحکام کا دارومدار ہے۔

دیکھئیے:پاکستان اور کرغزستان کے درمیان براہِ راست تجارتی راہداری پر کابل کے تحفظات، کرغزستان کو مراسلہ ارسال

متعلقہ مضامین

حکومت نے دفترِ خارجہ سے بھی درخواست کی ہے کہ صومالی حکومت کے ساتھ فوری سفارتی رابطہ قائم کیا جائے تاکہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور بحفاظت رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

April 27, 2026

موجودہ افغان رجیم کے پاس اپنے عوام کو دینے کے لیے نہ تو کوئی سروس ہے، نہ فلاحی منصوبہ اور نہ ہی بہتر گورننس، اسی لیے وہ صرف غلط اطلاعات اور نفرت پر مبنی بیانیے پر انحصار کر رہی ہے۔

April 27, 2026

اگر ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہیں، تو یہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک بہت بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات برابری کی بنیاد اور باہمی احترام کے اصولوں پر ہوں گے۔

April 27, 2026

دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی اصل تعداد کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

April 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *