خیبرپختونخوا کے اضلاع لکی مروت اور جنوبی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے بزدلانہ حملوں میں ایک پولیس افسر اور پاک فوج کے صوبیدار نے جامِ شہادت نوش کر لیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لکی مروت کے نواحی علاقے احمد خیل میں خوارج نے گھات لگا کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پولیس افسر صدیق اللہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ حملے کے فوری بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
فورسز اور خوارج میں جھڑپ
دوسری جانب جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغہ میں سکیورٹی فورسز اور خارجی دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس جھڑپ کے دوران پاک فوج کے صوبیدار طاہر نے بہادری سے لڑتے ہوئے وطنِ عزیز کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا اور جامِ شہادت نوش کیا۔
ریاستی نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خارجی عناصر سکیورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بنا کر صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ ان حملوں کا بنیادی مقصد معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا اور اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا کر ریاستی نظام کو مفلوج کرنا ہے، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے عزائم ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
دہشت گردوں کا تعاقب جاری
حکام کے مطابق شہدا کی قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور ملوث خوارج کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا اور کسی بھی تخریب کار کو رعایت نہیں دی جائے گی۔