متحدہ عرب امارات نے فرانس کے ساتھ 5 بلین یورو مالیت کے رافیل ایف5 “سپر رافیل” ڈویلپمنٹ پروجیکٹ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے سنگین اختلافات کے بعد سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کا مؤقف تھا کہ وہ منصوبے کی فنڈنگ اسی صورت میں کرے گا جب اسے جدید اور حساس ٹیکنالوجی تک مکمل رسائی فراہم کی جائے گی۔ فرانس کی جانب سے اس مطالبے پر ہچکچاہٹ اور تکنیکی معلومات کی منتقلی میں رکاوٹوں کے باعث امارات نے فنڈنگ میں حصہ نہ لینے کا حتمی فیصلہ کر لیا، جس کے بعد اب فرانس کو اس بھاری لاگت کا بوجھ تنہا برداشت کرنا پڑے گا۔
UAE withdraws from the €5 billion Rafale F5 “Super Rafale” development project.
— سيف الدرعي| Saif alderei (@saif_aldareei) April 29, 2026
After disagreements over sensitive technology transfer, the UAE will not participate in funding. France will now cover the full cost.
The existing deal for 80 Rafale F4 jets remains unchanged.
This… pic.twitter.com/3fHshq2guu
موجودہ معاہدہ برقرار
اماراتی حکام نے واضح کیا ہے کہ سپر رافیل منصوبے سے علیحدگی کا اثر 80 رافیل ایف4 طیاروں کے موجودہ معاہدے پر نہیں پڑے گا۔ مذکورہ ڈیل اپنی جگہ برقرار ہے اور اس کی فراہمی طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گی، کیونکہ اس کا تعلق طیاروں کی خریداری سے ہے نہ کہ نئی ٹیکنالوجی کی مشترکہ تیاری سے۔
تزویراتی مؤقف اور پیغام
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ متحدہ عرب امارات کے ایک نئے اور واضح تزویراتی موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ امارات اب محض ایک “خریدار” بننے کے بجائے دفاعی صنعت میں شراکت داری اور “حقیقی ٹیکنالوجی کی منتقلی” کو اپنی پہلی ترجیح قرار دے رہا ہے۔ یہ اقدام عالمی اسلحہ ساز کمپنیوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ مستقبل میں بڑے دفاعی سودے ٹیکنالوجی کے اشتراک کے بغیر ممکن نہیں ہوں گے۔