اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے اطلاعات کے 48ویں اجلاس میں پاکستان نے ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتی ہوئی غلط معلومات، نفرت انگیز مواد اور سیاسی مقاصد کے لیے استوار کیے جانے والے جھوٹے بیانیوں کے خلاف ایک مضبوط اور اصولی مقدمہ پیش کر دیا ہے۔ پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے عالمی معلوماتی نظام میں شفافیت، سچائی اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال
سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان پلیٹ فارمز کو منظم طریقے سے جھوٹ پھیلانے، معاشرتی تقسیم کو گہرا کرنے اور کمزور طبقات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے مطابق آن لائن نفرت انگیز تقاریر، نسل پرستی، زینو فوبیا اور بالخصوص اسلاموفوبیا محض مجازی مسائل نہیں رہے بلکہ یہ حقیقی دنیا میں تشدد، امتیاز اور انسانی تکالیف کو جنم دے رہے ہیں۔ سفیر عثمان جدون نے خبردار کیا کہ ڈیجیٹل دنیا کی یہ نفرت اکثر حقیقی دنیا میں بڑے جانی و مالی نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔
We remain deeply concerned at the misuse of digital platforms to amplify falsehoods, deepen polarization, and target vulnerable communities. The persistence of hate speech, racism, xenophobia, and Islamophobia in digital spaces is particularly alarming, often translating into… pic.twitter.com/XjyRH8q2gf
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) April 28, 2026
غلط معلومات بطور ہتھیار
پاکستان نے تزویراتی مہارت کے ساتھ تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں غلط معلومات کے خطرناک استعمال کو بے نقاب کیا۔ سفیر عثمان جدون نے واضح کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں جھوٹے بیانیے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو چھپانے، حقِ خودارادیت کی قانونی جدوجہد کو بدنام کرنے اور متاثرہ آبادیوں کی آواز دبانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کا یہ مؤقف اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے سچائی کو مسخ کر کے مظلوموں کی آواز خاموش کی جاتی ہے۔
ذمہ دارانہ ڈیجیٹل گورننس کا مطالبہ
پاکستان نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ذمہ دارانہ ڈیجیٹل گورننس کے قیام کے لیے اقدامات کرے۔ عثمان جدون نے مطالبہ کیا کہ عالمی سطح پر ایسا نظام وضع کیا جائے جو شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنائے تاکہ ڈیجیٹل دنیا میں انسانی حقوق کا احترام، تنوع کا تحفظ اور کمزور طبقات کی سیکیورٹی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی برادری کو ان جھوٹے بیانیوں کے خلاف تعاون کرنا چاہیے جو خود ارادیت کی جائز جدوجہد کو نشانہ بناتے ہیں۔
پاکستان کا اصولی مؤقف
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی یہ مداخلت ایسے دور میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے جب ڈیجیٹل غلط معلومات سیاسی اور انسانی نتائج پر تیزی سے اثر انداز ہو رہی ہیں۔ پاکستان کا یہ اصولی مؤقف سچائی، انسانی وقار اور مظلوم طبقات کے حقوق کا وہ مضبوط دفاع ہے جو اقوامِ متحدہ میں بھرپور حمایت کا مستحق ہے۔ یہ بیان امن، انصاف اور ذمہ دار عالمی مکالمے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔