امارتِ اسلامیہ افغانستان نے ملک بھر میں دعوت و تبلیغ کے نظام کو مکمل حکومتی کنٹرول میں لانے کے لیے ایک نیا جامع قانون نافذ کر دیا ہے۔ سترہ دفعات پر مشتمل یہ قانون مبلغین کے لیے اخلاقی اور علمی معیار مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں موجود مذہبی تنوع اور فقہی آزادی کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے
اس نئے قانون کے تحت افغانستان میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ صرف وہی شخص انجام دے سکے گا جو “مذہبِ حنفی” کا پیروکار ہو۔ قانون کی دفعہ چھ اور چودہ واضح طور پر غیر حنفی افراد کو تبلیغی عمل سے روکتی ہیں، جو کہ افغانستان میں آباد دیگر مسالک و مکاتب فکر کے لیے ایک بڑا سنگین مسئلہ ہے۔
مخصوص نصاب کی پابندی
قانون میں مبلغین کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی گفتگو کو وزارت کے تیار کردہ مخصوص نصاب تک محدود رکھیں۔ اس کے علاوہ مبلغین کو کسی بھی قسم کے اختلافی یا فروعی مسائل کو چھیڑنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، جس کا مقصد مذہبی ہم آہنگی بتایا گیا ہے لیکن علمی حلقے اسے علمی جمود کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
علمی و مذہبی حلقوں نے اس قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہل سنت والجماعت کا حقیقی راستہ ہمیشہ سے اعتدال کا رہا ہے، جس میں نہ افراط ہے اور نہ تفریط۔ ماہرین کے مطابق جہاں دیگر مسالک کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہوں، وہاں صرف ایک فقہ کا جبری نفاذ بین الاقوامی مذہبی آزادیوں اور اسلامی رواداری کے اصولوں سے متصادم ہے۔
علمی رد
اس قانون پر ہونے والے علمی ردِ عمل میں تین نکات نمایاں ہیں۔ اول: غیر حنفی مبلغین پر پابندی کو “مذہبی جبر” کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ دوم: صرف سرکاری نصاب کی پابندی سے فقہی ارتقاء رکنے کا خطرہ ہے۔ سوم: ‘اطاعتِ امیر’ پر ضرورت سے زیادہ زور دینے سے مبلغ کا آزاد مصلح کے بجائے ایک سرکاری اہلکار کا تاثر ابھرتا ہے۔
انتظامی نگرانی کا نظام
نئے ضابطے کے تحت وزارت کا ڈائریکٹوریٹ پالیسی سازی اور نگرانی کا ذمہ دار ہوگا، جبکہ صوبائی سطح پر ‘امارات’ مبلغین کی کارکردگی کا جائزہ لیں گی۔ اس قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی تمام سابقہ قوانین منسوخ کر دیے گئے ہیں اور تمام ریاستی حکام و مجاہدین کو مبلغین کے ساتھ مکمل تعاون کا حکم دیا گیا ہے۔