ایران نے جمعرات کی شام 30 اپریل کو اپنا نیا مذاکراتی مسودہ پاکستان کو پیش کیا۔ اس موقع پر ایران نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ہی امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایران کا واحد سرکاری ثالث رہے گا۔

May 1, 2026

ضلع باجوڑ میں افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے خواتین اور بچوں سمیت 9 شہری شہید اور 12 زخمی ہو گئے، جبکہ متعدد مکانات تباہ ہو گئے۔

May 1, 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گرینڈ حیات کیس میں بی این پی گروپ کی تمام درخواستیں خارج کر دیں، جس سے 14.5 ارب روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی پر سی ڈی اے کی جانب سے لیز کی منسوخی قانونی طور پر برقرار رہی ہے۔

May 1, 2026

ضلع خضدار میں مقامی شہریوں نے بی ایل اے کی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تنظیم کا جھنڈا جلا دیا اور واضح کیا کہ یہ گروہ بلوچستان کے امن اور معیشت کا قاتل ہے۔

May 1, 2026

بھارتی کمپنی ‘آدتیہ برلا گلوبل ٹریڈنگ’ پر جعل سازی کے ذریعے ایران سے ممنوعہ یوریا درآمد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس نے مودی سرکار کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دباؤ اور سبکی سے دوچار کر دیا ہے۔

May 1, 2026

بلوچستان اسمبلی میں 14 نئے ارکان کی شمولیت نے انتخابی نمائندگی کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ ریاست نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات صرف آئین کے دائرے میں رہنے والوں سے ہوں گے۔

May 1, 2026

مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر عوامی و سیاسی حلقوں میں تشویش، خوارج کی حمایت کا تاثر مضبوط ہونے لگا

یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فتنہ الخوارج کے بیانیے کو تقویت دی ہے، جسے ماہرین ان کے خلاف جاری کرپشن کیسز سے توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دے رہے ہیں۔

گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان نے باجوڑ اور وزیرستان میں فوجی آپریشنز پر سوال اٹھا دیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانیہ ریاست کے بجائے دہشت گردوں کے مفاد میں ہے۔

May 1, 2026

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے 30 اپریل 2026 کو ایک بار پھر ریاستی اداروں کے خلاف سخت بیانیہ اختیار کیا گیا ہے۔ مولانا نے اپنے حالیہ بیان میں باجوڑ اور وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بیانیہ فتنہ الخوارج کے موقف کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔

ریاستی اقدامات کی مخالفت کا تسلسل

مولانا فضل الرحمان کا یہ رویہ نیا نہیں ہے، وہ ماضی میں بھی نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے مختلف ریاستی اقدامات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ جب بھی ریاست انتہا پسندی کے نیٹ ورکس کو محدود کرنے کے لیے سخت فیصلے کرتی ہے، ان کی جانب سے تنقیدی بیانات سامنے آنے لگتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ریاستی کارروائیوں کو متنازع بنانا براہِ راست ان عناصر کو فائدہ پہنچاتا ہے جو ملک میں انتشار پھیلانے کے درپے ہیں۔

ذاتی مفادات اور الزامات

بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا یہ تند و تیز بیانیہ دراصل ان کی اپنی متنازع سیاسی اور مالی تاریخ سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ نیب کی جانب سے ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور سرکاری زمین کی کم قیمت پر الاٹمنٹ جیسے سنگین معاملات پر تحقیقات جاری ہیں۔ 64 کنال سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور ڈیزل پرمٹ اسکیم جیسے اسکینڈلز بھی ان کے نام سے منسوب رہے ہیں۔

قومی ابہام اور سلامتی کے خطرات

ایسے وقت میں جب ریاست دہشت گردی کے خلاف واضح موقف اپنائے ہوئے ہے، سیاسی قیادت کی جانب سے مسلسل شکوک و شبہات پیدا کرنا قومی سطح پر کنفیوژن کا باعث بن رہا ہے۔ یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

ایران نے جمعرات کی شام 30 اپریل کو اپنا نیا مذاکراتی مسودہ پاکستان کو پیش کیا۔ اس موقع پر ایران نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ہی امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایران کا واحد سرکاری ثالث رہے گا۔

May 1, 2026

ضلع باجوڑ میں افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے خواتین اور بچوں سمیت 9 شہری شہید اور 12 زخمی ہو گئے، جبکہ متعدد مکانات تباہ ہو گئے۔

May 1, 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گرینڈ حیات کیس میں بی این پی گروپ کی تمام درخواستیں خارج کر دیں، جس سے 14.5 ارب روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی پر سی ڈی اے کی جانب سے لیز کی منسوخی قانونی طور پر برقرار رہی ہے۔

May 1, 2026

ضلع خضدار میں مقامی شہریوں نے بی ایل اے کی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تنظیم کا جھنڈا جلا دیا اور واضح کیا کہ یہ گروہ بلوچستان کے امن اور معیشت کا قاتل ہے۔

May 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *