اقوام متحدہ اور عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق طالبان کی جانب سے افغانستان میں استحکام اور معاشی ترقی کے دعوے زمینی حقائق کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے طالبان کے اس دعوے کو ناقابل اعتبار قرار دیا ہے کہ افغان سرزمین سے کوئی بھی دہشت گرد گروہ کارروائی نہیں کر رہا۔ رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں تحریک طالبان کے تقریباً چھ ہزار جنگجو موجود ہیں جنہیں طالبان کی مکمل پناہ اور سہولیات حاصل ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران پاکستان کے اندر ہونے والے چھ سو سے زائد حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین پر کی گئی۔ ان حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور سرحدی بندشوں سے افغان معیشت کو روزانہ دس لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جس کی بھاری قیمت عام افغان خاندانوں کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
دوسری جانب عالمی بینک کے جائزے کے مطابق، مالی سال 2025 میں افغانستان کی مجموعی ملکی پیداوار میں 4.3 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے، لیکن آبادی کی شرح نمو 8.6 فیصد تک پہنچنے سے فی کس آمدنی میں 4.0 فیصد کمی واقع ہوگی۔ اعداد و شمار کے مطابق، دو کروڑ 69 لاکھ افراد یعنی 64.9 فیصد آبادی کثیر الجہتی غربت کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں 75 فیصد افراد اپنی بنیادی ضروریات کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار تھے۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ طالبان حکومت نے کوئی مستحکم اور خود کفیل معیشت نہیں بنائی، بلکہ ملکی محصولات کا 40 فیصد سے زائد حصہ بیرونی امداد پر منحصر ہے۔ اس مالیاتی انحصار کے باعث افغانستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 31.9 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے، جس سے عام آدمی کے لیے معاشی بقا مزید مشکل ہو گئی ہے۔