ضلع چارسدہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) سے وابستہ ممتاز عالمِ دین شیخ محمد ادریس ترنگزئی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ حملے کے کچھ گھنٹوں بعد شدت پسند تنظیم داعش نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات
ابتدائی اطلاعات کے مطابق شیخ محمد ادریس کو چارسدہ میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے معمول کے مطابق درس کے لیے جا رہے تھے کہ اچانک نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش کے لیے پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
The Islamic State in Khorasan [ISKP] has claimed the attack that assassinated Sheikh Idrees in Charsadda, Khyber Pakhtunkhwa province. https://t.co/9sQxzqfJBo
— Iftikhar Firdous (@IftikharFirdous) May 5, 2026
شیخ ادریس کی خدمات
شیخ محمد ادریس کا شمار علاقے کے جید علمائے دین میں ہوتا تھا۔ وہ دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی معروف مذہبی و سیاسی جماعت جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ایک سرگرم اور اہم رکن تھے۔ ان کی شہادت پر مذہبی اور سیاسی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
داعش کا دعویٰ اور سکیورٹی خدشات
شدت پسند تنظیم داعش خراسان نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں اس ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں جے یو آئی سے وابستہ شخصیات پر حملوں میں حالیہ اضافہ سکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔