جالندھر میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے پنجاب فرنٹیئر ہیڈ کوارٹر کے باہر منگل کی شام ایک ہائی امپیکٹ دھماکہ پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی۔ دھماکہ رات آٹھ بجے کے قریب مصروف ترین سڑک پر ہوا، جس کی شدت سے ایک ہنڈا ایکٹیوا سکوٹر مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور قریبی ٹریفک سگنل کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی جالندھر کمشنریٹ پولیس، بم ڈسپوزل سکواڈ، اور فارنسک ماہرین کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ پولیس نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ جالندھر کی کمشنر آف پولیس، دھنپریت کور رندھاوا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران کسی بھی قسم کی شرارت یا دھماکہ خیز مواد کے استعمال کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق، سکوٹر کا مالک اور ڈرائیور ایک ڈیلیوری کمپنی کے لیے کام کرتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ بی ایس ایف ہیڈ کوارٹر میں آرڈر ڈیلیور کرنے کے بعد واپس آ رہا تھا کہ گاڑی میں دھماکہ ہو گیا۔ ڈرائیور نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ سکوٹر کی مکینیکل سروس کا وقت قریب تھا، جس سے تکنیکی خرابی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پولیس تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور حتمی رپورٹ فارنسک ٹیموں کی جانچ کے بعد جاری کی جائے گی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بدھ کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب بھگونت مان کے دورہ جالندھر کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے دورے کے پیشِ نظر سیکیورٹی ایجنسیز کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور علاقے کی ناکہ بندی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
دیکھئیے:پہلگام سے بنیان مرصوص تک؛ بھارتی سازشوں کی ناکامی کی داستان