بیجنگ: چین کی جانب سے پاکستان کو پانچویں نسل کے جے-35 اے سٹیلتھ لڑاکا طیارے فراہم کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں عسکری توازن تبدیل ہونے اور بھارت میں تشویش پیدا ہونے کا امکان ہے۔
ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، چین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے جے-35 اے کے برآمدی ورژن کی تیاریوں کی نشاندہی کی ہے، اور پاکستان کو اس کا پہلا خریدار قرار دیا جا رہا ہے۔ چینی ٹی وی پر طیارے کے برآمدی ورژن جے-35 اے ای کی فوٹیج دکھائی گئی ہے جس میں جدید ترین الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹ سسٹم نصب ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، پاکستان اس دفاعی پیکیج کے تحت تقریباً 40 طیارے حاصل کر سکتا ہے۔
یہ اقدام چین کی جانب سے ہائی اینڈ ہتھیاروں کی برآمد میں امریکہ کا مقابلہ کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پاکستان چین کا دیرینہ دفاعی پارٹنر ہے اور اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی حالیہ دفاعی درآمدات کا 80 فیصد حصہ چین سے آتا ہے۔
مئی 2025 کے پاک بھارت تنازعات کے دوران چوتھے درجے کے طیاروں کی آپریشنل حدود سامنے آئی تھیں۔ کرسٹوفر کلیری کے مطابق، بھارتی ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم نے پاکستانی طیاروں کو روکا تھا۔ تاہم، پانچویں نسل کے طیاروں کے استعمال سے پاکستان کو گہرے حملوں اور انٹیلی جنس مشنز میں نمایاں آپریشنل برتری مل سکتی ہے، جیسا کہ 2025 میں اسرائیل نے اپنے ایف-35 آئی طیاروں کے ذریعے جدید فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنا کر ثابت کیا تھا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس جدید ترین ٹیکنالوجی کی جنوبی ایشیا میں منتقلی سے خطے میں روایتی اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہو سکتی ہے، اور بحران کے وقت غلط فہمیوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
دیکھئیے:صدر ٹرمپ کا پاکستان کی درخواست پر پروجیکٹ فریڈم روکنے کا اعلان