چارسدہ: افغانستان کے سفیر سردار شکیب احمد نے چارسدہ میں جید عالم دین اور جے یو آئی کے رہنما مولانا ادریس شہید کے لواحقین سے ملاقات کی اور امارتِ اسلامیہ کا تعزیتی پیغام پڑھ کر سنایا۔ تاہم، دفاعی تجزیہ کاروں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ عوامی سطح پر جاری کیے جانے والے یہ مذمتی بیانات اس تلخ حقیقت کو نہیں چھپا سکتے کہ افغان سرزمین اب بھی دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔
افغان سفیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حملہ آوروں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، لیکن یہ محض ایک روایتی بیانیہ معلوم ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان دہشت گردوں کا دین سے تعلق نہیں تو انہیں افغان سرزمین پر نقل و حرکت، تربیت اور منصوبہ بندی کی مسلسل جگہ کیوں مل رہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں، جہاں انہیں دوبارہ منظم ہونے اور کارروائیاں مربوط کرنے کے لیے مکمل سازگار ماحول میسر ہے۔
صرف 2025 میں 600 سے زائد سرحد پار حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ واقعات اتفاقی نہیں بلکہ ایک گہرے آپریشنل نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ مولانا ادریس جیسی مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانا اس منظم تشدد کے پیٹرن کو مزید بے نقاب کرتا ہے۔ جب کسی علاقے کو بار بار حملوں کے لیے استعمال کیا جائے، تو اسے محض مذمتی بیانات سے پاک قرار نہیں دیا جا سکتا۔
طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہر حملے کے بعد مذمت کرنا اب ایک تکراری عمل بن چکا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ بیانات جوابدہی کے بجائے محض ‘ڈیمیج کنٹرول’ کی کوشش ہیں۔ جب تک افغانستان اپنی زمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتا، اس طرح کی تعزیتیں بے معنی رہیں گی اور افغان سرزمین دہشت گرد پراکسیز کے گڑھ کے طور پر دیکھی جاتی رہے گی۔