افغان اسپیشل فورسز کے اہلکار کا ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستانی حدود میں لڑنا محض ‘انفرادی فعل’ نہیں بلکہ یہ کابل کے ان دعوؤں کی نفی ہے کہ وہ اپنی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

May 7, 2026

خلیل الحیہ کے بیٹوں کی شہادت کا سلسلہ 2008 اور 2014 میں غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران شروع ہوا تھا، جب ان کے دو بیٹے مارے گئے تھے۔ گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک مبینہ حملے میں ان کا تیسرا بیٹا شہید ہوا

May 7, 2026

پاکستان نے نہ صرف بھارتی فضائی حملے کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کے چار جدید ترین رافیل طیاروں سمیت آٹھ جنگی جہاز مار گرائے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان کا ایک بھی طیارہ تباہ نہ ہوا۔ اس رات صرف میزائل اور جہاز نہیں گرے تھے، بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق کئی دیرینہ تصورات بھی زمین بوس ہو گئے تھے۔

May 7, 2026

ٹرمپ نے اپنی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

May 7, 2026

یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردی اور تشدد کا ایک ایسا نیٹ ورک پروان چڑھ چکا ہے جس کے لیے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

May 7, 2026

طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہر حملے کے بعد مذمت کرنا اب ایک تکراری عمل بن چکا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ بیانات جوابدہی کے بجائے محض ‘ڈیمیج کنٹرول’ کی کوشش ہیں۔

May 7, 2026

ایک جانب مذمتی بیانات اور دوسری جانب دہشت گردوں کی سرپرستی : مولانا ادریس کی شہادت پر افغان حکومت کی مذمت پر ماہرین کی تنقید

طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہر حملے کے بعد مذمت کرنا اب ایک تکراری عمل بن چکا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ بیانات جوابدہی کے بجائے محض ‘ڈیمیج کنٹرول’ کی کوشش ہیں۔
افغان حکومت کی مذمت

عوامی سطح پر جاری کیے جانے والے یہ مذمتی بیانات اس تلخ حقیقت کو نہیں چھپا سکتے کہ افغان سرزمین اب بھی دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔

May 7, 2026

چارسدہ: افغانستان کے سفیر سردار شکیب احمد نے چارسدہ میں جید عالم دین اور جے یو آئی کے رہنما مولانا ادریس شہید کے لواحقین سے ملاقات کی اور امارتِ اسلامیہ کا تعزیتی پیغام پڑھ کر سنایا۔ تاہم، دفاعی تجزیہ کاروں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ عوامی سطح پر جاری کیے جانے والے یہ مذمتی بیانات اس تلخ حقیقت کو نہیں چھپا سکتے کہ افغان سرزمین اب بھی دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔

افغان سفیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حملہ آوروں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، لیکن یہ محض ایک روایتی بیانیہ معلوم ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان دہشت گردوں کا دین سے تعلق نہیں تو انہیں افغان سرزمین پر نقل و حرکت، تربیت اور منصوبہ بندی کی مسلسل جگہ کیوں مل رہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں، جہاں انہیں دوبارہ منظم ہونے اور کارروائیاں مربوط کرنے کے لیے مکمل سازگار ماحول میسر ہے۔

صرف 2025 میں 600 سے زائد سرحد پار حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ واقعات اتفاقی نہیں بلکہ ایک گہرے آپریشنل نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ مولانا ادریس جیسی مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانا اس منظم تشدد کے پیٹرن کو مزید بے نقاب کرتا ہے۔ جب کسی علاقے کو بار بار حملوں کے لیے استعمال کیا جائے، تو اسے محض مذمتی بیانات سے پاک قرار نہیں دیا جا سکتا۔

طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہر حملے کے بعد مذمت کرنا اب ایک تکراری عمل بن چکا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ بیانات جوابدہی کے بجائے محض ‘ڈیمیج کنٹرول’ کی کوشش ہیں۔ جب تک افغانستان اپنی زمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتا، اس طرح کی تعزیتیں بے معنی رہیں گی اور افغان سرزمین دہشت گرد پراکسیز کے گڑھ کے طور پر دیکھی جاتی رہے گی۔

دیکھئیے:اگر طالبان رجیم ایک سال اور رہی تو افغانستان کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا؛ ڈاکٹر ماریہ سلطان کا دعویٰ

متعلقہ مضامین

افغان اسپیشل فورسز کے اہلکار کا ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستانی حدود میں لڑنا محض ‘انفرادی فعل’ نہیں بلکہ یہ کابل کے ان دعوؤں کی نفی ہے کہ وہ اپنی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

May 7, 2026

خلیل الحیہ کے بیٹوں کی شہادت کا سلسلہ 2008 اور 2014 میں غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران شروع ہوا تھا، جب ان کے دو بیٹے مارے گئے تھے۔ گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک مبینہ حملے میں ان کا تیسرا بیٹا شہید ہوا

May 7, 2026

پاکستان نے نہ صرف بھارتی فضائی حملے کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کے چار جدید ترین رافیل طیاروں سمیت آٹھ جنگی جہاز مار گرائے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان کا ایک بھی طیارہ تباہ نہ ہوا۔ اس رات صرف میزائل اور جہاز نہیں گرے تھے، بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق کئی دیرینہ تصورات بھی زمین بوس ہو گئے تھے۔

May 7, 2026

ٹرمپ نے اپنی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

May 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *