بدخشان: افغانستان کے صوبہ بدخشان کے ضلع اشکاشم کے بازار میں جمعرات کی صبح ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں ایک نامعلوم مسلح شخص نے خاتون کاروباری شخصیت لیلما کو اس وقت فائرنگ کر کے قتل کر دیا جب وہ اپنے معصوم بچے کے ساتھ کام پر جا رہی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ صبح 8 بجے کے قریب پرہجوم بازار میں پیش آیا، جہاں حملہ آور نے شکاری رائفل کا استعمال کیا۔ لیلما کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔
رپورٹس کے مطابق لیلما، جو معروف مقامی گلوکار سلام مفتون کی اہلیہ تھیں، آغا خان فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام خواتین کے لیے مخصوص مارکیٹ میں سلائی کڑھائی کا ورکشاپ چلاتی تھیں۔ اس ہلاکت نے طالبان کے زیرِ اثر افغانستان میں شہری تحفظ کے مکمل خاتمے اور امن و امان کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ پرہجوم بازار میں دن دیہاڑے قتل ثابت کرتا ہے کہ مجرموں کو کسی قانونی کارروائی کا خوف نہیں اور وہ مکمل استثنیٰ کے ساتھ آزاد گھوم رہے ہیں۔
دفاعی اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک قتل نہیں بلکہ اسماعیلی کمیونٹی کے خلاف جاری ٹارگٹڈ تشدد کے ایک منظم سلسلے کی کڑی ہے۔ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے درمیان بھی اسماعیلی فرقے کے کم از کم تین افراد کو قتل کیا گیا، مگر اب تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ طالبان پولیس کے ترجمان کی جانب سے واقعے کی تصدیق تو کی گئی مگر کسی تحقیقات یا گرفتاری کا ذکر نہ کرنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ نظام میں انصاف کے بجائے محض دکھاوے کی حکمرانی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق طالبان دور میں اسماعیلی برادری پر جبری مذہب تبدیلی کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ 2025 کے ابتدائی تین مہینوں میں 50 سے زائد اسماعیلیوں کو تشدد اور موت کی دھمکیوں کے ذریعے جبراً سنی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق خواتین اور اقلیتی شناخت کا یہ امتزاج انہیں تشدد کے لیے سب سے زیادہ آسان ہدف بناتا ہے۔ عوامی مقامات اور کام کی جگہوں پر خواتین کی عدم موجودگی اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتا ہوا کریک ڈاؤن ثابت کرتا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے نام پر خوف اور جبر کا نظام رائج ہے، جہاں انسانی جان اور وقار کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔