وانا میں فتنہ الخوارج نے توجی خیل قبیلے کی 4 گاڑیوں پر قبضہ کر کے متعدد خاندانوں کو زبردستی بے دخل کر دیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

June 22, 2026

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 677 افغان صحافی ملک چھوڑ کر مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد صحافی اب بھی حراست میں ہیں۔

June 22, 2026

امریکہ اور ایران مذاکرات میں پیش رفت کے بعد عالمی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، خام تیل سستا جبکہ متعدد اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی۔

June 22, 2026

سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں ہونے والے لوسرن سربراہی اجلاس کے پہلے دور میں امریکہ اور ایران نے 60 روز کے اندر جامع امن معاہدے کے روڈ میپ اور ہائی لیول نگرانی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کر لیا۔

June 22, 2026

اقوام متحدہ میں افغان مندوب نصیر احمد اندیشہ کا بڑا بیان۔ طالبان کے حالیہ فیصلوں اور احکامات کو ملکی قوانین تسلیم کرنے سے انکار۔ افغان عوام طالبان پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

June 21, 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد اور لبنان جنگ بندی جیسے اہم امور پر مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔

June 21, 2026

طالبان کا نیا 119 دفعات پر مشتمل عدالتی فوجداری کوڈ نافذ؛ افغانستان میں سزاؤں کا باضابطہ نظام متعارف

طالبان حکومت نے 119 دفعات پر مشتمل نیا عدالتی فوجداری کوڈ’نافذ کر دیا ہے، جس میں سماجی طبقے کی بنیاد پر سزاؤں کا تعین اور مختلف جرائم کے لیے شرعی قوانین شامل ہیں۔
طالبان حکومت نے 119 دفعات پر مشتمل نیا عدالتی فوجداری کوڈ'نافذ کر دیا ہے، جس میں سماجی طبقے کی بنیاد پر سزاؤں کا تعین اور مختلف جرائم کے لیے سخت شرعی قوانین شامل ہیں۔

افغانستان میں طالبان کا نیا فوجداری ضابطہ نافذ۔ سپریم لیڈر کی منظوری سے جاری گزٹ میں توہینِ رسالت، ارتداد، اور منشیات سمیت مختلف جرائم کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

May 8, 2026

افغانستان کی طالبان حکومت نے ملکی عدالتی نظام کو دستاویزی شکل دیتے ہوئے نیا “عدالتی فوجداری کوڈ” باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔ طالبان کی وزارتِ انصاف کی جانب سے جاری کردہ سرکاری گزٹ میں شامل یہ کوڈ 119 دفعات پر مشتمل ہے، جسے امیر المومنین ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حتمی منظوری کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔ اس نئے ضابطہ اخلاق کا مقصد ملک بھر کی عدالتوں میں سزاؤں کے تعین کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کرنا ہے۔

سزاؤں کا سہ پہلو ڈھانچہ

اس نئے قانونی ڈھانچے میں سزاؤں کو تین بنیادی زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ‘حد’ کے تحت وہ سزائیں شامل ہیں جو مذہبی تعلیمات کے مطابق طے شدہ ہیں۔ ‘قصاص’ کے زمرے میں برابر کا بدلہ یا جان کے بدلے جان کی سزا رکھی گئی ہے، جبکہ ‘تعزیر’ کے تحت وہ سزائیں شامل ہیں جن کا تعین جج یا ریاست کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے۔ یہ تقسیم طالبان کے مخصوص عدالتی وژن کی عکاسی کرتی ہے جہاں روایتی شرعی تشریحات کو باقاعدہ ریاستی قانون کی شکل دی گئی ہے۔

سماجی طبقے کی بنیاد پر سزا کا تعین

اس کوڈ کی ایک نمایاں اور منفرد خصوصیت تعزیری سزاؤں کا مجرم کے سماجی طبقے کے لحاظ سے مختلف ہونا ہے۔ علماء اور معاشرے کے اعلیٰ طبقے کے لیے جج کی جانب سے صرف تنبیہ یا نصیحت کافی ہوگی، جبکہ قبائلی عمائدین اور تاجروں (شرفا) کو عدالت میں طلب کر کے صرف مطلع کیا جائے گا۔ اس کے برعکس متوسط طبقے کے لیے قید کی سزا تجویز کی گئی ہے، جبکہ ادنیٰ طبقے کے لیے دھمکیاں اور جسمانی سزا بشمول کوڑے مارنا مقرر کیا گیا ہے۔

مذہبی و انتظامی جرائم پر گرفت

مذہبی جرائم کے حوالے سے یہ کوڈ انتہائی سخت ہے۔ توہینِ رسالت کے جرم پر سزائے موت مقرر ہے، تاہم اگر مجرم توبہ کر لے تو اسے 6 سال قید کاٹنی ہوگی۔ اسی طرح حنفی مسلک چھوڑنے والے شہری کو 2 سال قید، جبکہ اسلام چھوڑنے والی خاتون کو توبہ تک غیر معینہ مدت کے لیے قید رکھا جائے گا اور ہر تین دن بعد 10 کوڑے مارے جائیں گے۔ انتظامی سطح پر سپریم لیڈر کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری ملازمین کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کر دیا جائے گا۔

سماجی پابندیاں اور توہمات کی روک تھام

نئے قوانین کے تحت ناچ گانے کی محفلیں سجانے والوں، کوریوگرافرز اور یہاں تک کہ تماشائیوں کو بھی 2 ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔ ہم جنس پرستی پر 2 سال قید یا بار بار ارتکاب پر سزائے موت دی جا سکے گی۔ رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر 20 کوڑے اور 2 ماہ قید مقرر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ‘نظرِ بد’ لگانے کے شبہ میں بھی ایک سال تک گھریلو نظر بندی کی سزا دی جا سکتی ہے۔ خاندانی معاملات میں والدین پر ہاتھ اٹھانے پر 30 کوڑے اور 5 ماہ قید، جبکہ شوہر کی جانب سے بیوی کو شدید زخمی کرنے پر صرف 15 دن قید کی سزا مقرر ہے۔

منشیات کی کاشت اور اسمگلنگ

منشیات کے خلاف مہم کو قانونی شکل دیتے ہوئے افیون اور چرس کی کاشت پر زمین کے رقبے کے لحاظ سے 6 ماہ سے 7 سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ منشیات کی نقل و حمل اور فروخت پر بھی سخت سزائیں دی جائیں گی۔ مزید برآں، سرکاری دستاویزات یا سپریم لیڈر کے دستخط کی جعلسازی پر 3 سال قید کی سزا ہوگی۔ عدالتی جوابدہی کے عمل میں اگر کوئی جج فیصلے میں بلاوجہ تاخیر کا مرتکب پایا گیا تو اسے بھی 10 دن قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔

دیکھیے: ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کاروائی: فتنہ الخوارج کے 100 سے زائد دہشت گردوں کی دراندازی ناکام

متعلقہ مضامین

وانا میں فتنہ الخوارج نے توجی خیل قبیلے کی 4 گاڑیوں پر قبضہ کر کے متعدد خاندانوں کو زبردستی بے دخل کر دیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

June 22, 2026

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 677 افغان صحافی ملک چھوڑ کر مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد صحافی اب بھی حراست میں ہیں۔

June 22, 2026

امریکہ اور ایران مذاکرات میں پیش رفت کے بعد عالمی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، خام تیل سستا جبکہ متعدد اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی۔

June 22, 2026

سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں ہونے والے لوسرن سربراہی اجلاس کے پہلے دور میں امریکہ اور ایران نے 60 روز کے اندر جامع امن معاہدے کے روڈ میپ اور ہائی لیول نگرانی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کر لیا۔

June 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *