سری نگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں ایک مدرسے میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے ایک طالب علم جاں بحق اور چار دیگر شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب پیش آیا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ لگنے کا واقعہ پرانا متن اڈہ کے علاقے میں واقع ‘دارالعلوم بابا حیدری ریشی’ میں پیش آیا، جس کے نتیجے میں عمارت میں موجود طلبہ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور مقامی لوگوں کی مدد سے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ قابض حکام کے مطابق، جدوجہد کے بعد کئی طلبہ کو بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم آگ کی شدت کے باعث ایک 15 سالہ طالب علم، بلال احمد، بری طرح جھلس گیا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے چار دیگر طلبہ کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ مقامی پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا برقرار ہے اور مقامی آبادی نے مدرسے میں حفاظتی انتظامات کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔