اس سے قبل بھی انگلینڈ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے متعدد کھلاڑیوں اور صحافیوں کو صرف اس لیے غیر ضروری اسکروٹنی اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کی جڑیں پاکستان میں تھیں یا ان کی پہچان بطور مسلمان تھی۔

May 12, 2026

اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تنقید کرنے والوں کے پاس اپنا کیا منصوبہ ہے؟ معاشی بحالی کے لیے ان کا عملی روڈ میپ کہاں ہے؟ اور سیاسی تقسیم کو کم کرنے کے لیے انہوں نے کون سا قابلِ عمل فارمولا پیش کیا ہے؟ محض ری سائیکل شدہ جملوں اور ڈرائنگ روم پولیٹکس سے قوم کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔

May 12, 2026

انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم کے اندر نوجوانوں کو اشتعال انگیز بیانیے کے تحت متحرک کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ریاست سے دور کیا جا سکے۔ اپنی سابقہ سرگرمیوں پر شدید ندامت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وہ اس انتشاری سیاست کا مزید حصہ نہیں رہ سکتیں اور آئینی و قومی دھارے میں رہ کر ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔

May 12, 2026

زکوٰۃ کا پیسہ جو بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کا حق ہے، اس میں خرد برد کے الزامات نے “عوامی حکومت” کے لبادے کو چاک کر دیا ہے۔ صوبے کے عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر محکموں کے اندر جاری مبینہ لوٹ مار پر اینٹی کرپشن جیسے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں

May 12, 2026

یہ بزدلانہ حملہ پاکستان کی ‘معرکۂ حق’ اور ‘غضب للحق’ جیسے آپریشنز میں نمایاں کامیابیوں کے بعد بھارت اور اس کے پراکسی ماسٹر افغانستان کی بڑھتی ہوئی مایوسی اور بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔

May 12, 2026

یہ افسوسناک واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب پیش آیا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

May 12, 2026

نوجوانوں کا استعمال اور ریاست مخالف بیانیہ: ادیبہ ظہیر کی پریس کانفرنس نے بی وائی سی کے عزائم کا پول کھول دیا

انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم کے اندر نوجوانوں کو اشتعال انگیز بیانیے کے تحت متحرک کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ریاست سے دور کیا جا سکے۔ اپنی سابقہ سرگرمیوں پر شدید ندامت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وہ اس انتشاری سیاست کا مزید حصہ نہیں رہ سکتیں اور آئینی و قومی دھارے میں رہ کر ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔
ادیبہ ظہیر کا اعتراف

ادیبہ ظہیر نے اعتراف کیا کہ وہ بی وائی سی کے جلسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں اور ریاستی اداروں کے خلاف جذباتی نعرہ بازی کا حصہ بنیں۔

May 12, 2026

کوئٹہ: بلوچستان میں حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف بیانیہ پروان چڑھانے والی تنظیم ‘بلوچ یکجہتی کمیٹی’ کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب تنظیم کی پنجگور کی سابق صدر ادیبہ ظہیر نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں تنظیم سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے سنگین انکشافات کیے۔ ادیبہ ظہیر کا اعترافی بیان اس بات کی تازہ ترین گواہی ہے کہ کس طرح بی وائی سی کے پلیٹ فارم کو نوجوانوں خصوصاً خواتین کے ذہنوں میں ریاست اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف نفرت بھرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ادیبہ ظہیر نے اعتراف کیا کہ وہ بی وائی سی کے جلسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں اور ریاستی اداروں کے خلاف جذباتی نعرہ بازی کا حصہ بنیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم کے اندر نوجوانوں کو اشتعال انگیز بیانیے کے تحت متحرک کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ریاست سے دور کیا جا سکے۔ اپنی سابقہ سرگرمیوں پر شدید ندامت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وہ اس انتشاری سیاست کا مزید حصہ نہیں رہ سکتیں اور آئینی و قومی دھارے میں رہ کر ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بی وائی سی کی کسی خاتون عہدیدار نے تنظیم کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہوں۔ اس سے قبل لائبہ اور رحیمہ کے بیانات بھی منظرِ عام پر آ چکے ہیں، جن میں بی وائی سی کے ذریعے نوجوان خواتین کی مبینہ ‘ریڈیکلائزیشن’ اور کالعدم بی ایل اے کی جانب سے خواتین کو علامتی اور عملی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا تھا۔ ادیبہ ظہیر کی گواہی ان تمام خدشات کو سچ ثابت کر رہی ہے کہ احتجاجی سیاست کے پردے میں نوجوانوں کو ایک منظم پراکسی جنگ کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔

سیاسی و دفاعی مبصرین ادیبہ ظہیر کی پریس کانفرنس کو بلوچستان میں بدلتی ہوئی فضا اور شدت پسند بیانیوں سے عوامی لاتعلقی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یکے بعد دیگرے خواتین رہنماؤں کا ان انتشاری نیٹ ورکس سے الگ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کا نوجوان اب حقیقت کو سمجھ چکا ہے اور وہ بیرونی ایجنڈوں پر مبنی سیاست کے بجائے ترقی اور قومی یکجہتی کے راستے کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ اعترافات ثابت کرتے ہیں کہ انتشاری بیانیہ اب اپنی موت آپ مر رہا ہے۔

دیکھئیے:لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں بم دھماکہ، 7 افراد شہید اور متعدد زخمی

متعلقہ مضامین

اس سے قبل بھی انگلینڈ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے متعدد کھلاڑیوں اور صحافیوں کو صرف اس لیے غیر ضروری اسکروٹنی اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کی جڑیں پاکستان میں تھیں یا ان کی پہچان بطور مسلمان تھی۔

May 12, 2026

اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تنقید کرنے والوں کے پاس اپنا کیا منصوبہ ہے؟ معاشی بحالی کے لیے ان کا عملی روڈ میپ کہاں ہے؟ اور سیاسی تقسیم کو کم کرنے کے لیے انہوں نے کون سا قابلِ عمل فارمولا پیش کیا ہے؟ محض ری سائیکل شدہ جملوں اور ڈرائنگ روم پولیٹکس سے قوم کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔

May 12, 2026

زکوٰۃ کا پیسہ جو بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کا حق ہے، اس میں خرد برد کے الزامات نے “عوامی حکومت” کے لبادے کو چاک کر دیا ہے۔ صوبے کے عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر محکموں کے اندر جاری مبینہ لوٹ مار پر اینٹی کرپشن جیسے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں

May 12, 2026

یہ بزدلانہ حملہ پاکستان کی ‘معرکۂ حق’ اور ‘غضب للحق’ جیسے آپریشنز میں نمایاں کامیابیوں کے بعد بھارت اور اس کے پراکسی ماسٹر افغانستان کی بڑھتی ہوئی مایوسی اور بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔

May 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *