پشاور: خیبر پختونخوا میں “تبدیلی” کا نعرہ اب عوامی حلقوں میں سوالات کی زد میں ہے، جہاں حالیہ رپورٹوں نے حکومت کی انتظامی کارکردگی اور شفافیت کے دعووں کا پول کھول دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس کے اربوں روپے کے وسائل اور زکوٰۃ و عشر جیسے مقدس فنڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں کے انکشافات نے صوبائی حکومت کے اخلاقی و سیاسی گراف پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، عوام کو مستقل سیاسی احتجاج اور “اڈیالہ جیل” کے بیانیے میں الجھا کر پسِ پردہ کرپشن اور بدانتظامی کا بازار گرم ہے۔
سہیل آفریدی حکومت کے دور میں زکوٰۃ جیسے حساس فنڈز میں کرپشن کے الزامات محض مالی بدعنوانی نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی دیوالیہ پن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ زکوٰۃ کا پیسہ جو بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کا حق ہے، اس میں خرد برد کے الزامات نے “عوامی حکومت” کے لبادے کو چاک کر دیا ہے۔ صوبے کے عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر محکموں کے اندر جاری مبینہ لوٹ مار پر اینٹی کرپشن جیسے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ احتساب صرف مخالفین کے لیے ہے۔
اسی طرح، آئل اینڈ گیس سے حاصل ہونے والے اربوں روپے کے وسائل جو صوبے کی ترقی اور نوجوانوں کے روزگار پر خرچ ہونے چاہیے تھے، ان کا کوئی واضح نشان نظر نہیں آتا۔ سہیل آفریدی کی حکومت انتظامی نگرانی اور کرپشن کی روک تھام میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے، جبکہ اس کی تمام تر توجہ صرف سیاسی شور شرابے اور الزام تراشی پر مرکوز ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اب جذباتی تقریروں اور ٹویٹس کے بجائے اپنے وسائل کا حساب مانگ رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جو حکومت غریب کے زکوٰۃ فنڈ کی حفاظت نہ کر سکے، وہ عوامی حقوق کی محافظ کہلانے کا حق کھو دیتی ہے۔ اگر ان مبینہ بے ضابطگیوں کی فوری اور شفاف تحقیقات نہ کی گئیں اور ذمہ داروں کا تعین نہ ہوا، تو یہ واضح ہو جائے گا کہ صوبے میں بدانتظامی کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ کے پی کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ ان کا حق کہاں گیا اور احتساب کا نعرہ لگانے والے آج خود احتساب سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟