"> تبدیلی یا تباہی؟ کے پی میں زکوٰۃ و عشر اور آئل اینڈ گیس فنڈز میں مبینہ کرپشن؛ سہیل آفریدی سے عوامی حساب کا مطالبہ - HTN Urdu تبدیلی یا تباہی؟ کے پی میں زکوٰۃ و عشر اور آئل اینڈ گیس فنڈز میں مبینہ کرپشن؛ سہیل آفریدی سے عوامی حساب کا مطالبہ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

تبدیلی یا تباہی؟ کے پی میں زکوٰۃ و عشر اور آئل اینڈ گیس فنڈز میں مبینہ کرپشن؛ سہیل آفریدی سے عوامی حساب کا مطالبہ

زکوٰۃ کا پیسہ جو بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کا حق ہے، اس میں خرد برد کے الزامات نے “عوامی حکومت” کے لبادے کو چاک کر دیا ہے۔ صوبے کے عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر محکموں کے اندر جاری مبینہ لوٹ مار پر اینٹی کرپشن جیسے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں
کے پی حکومت تنقید کی زد میں

May 12, 2026

پشاور: خیبر پختونخوا میں “تبدیلی” کا نعرہ اب عوامی حلقوں میں سوالات کی زد میں ہے، جہاں حالیہ رپورٹوں نے حکومت کی انتظامی کارکردگی اور شفافیت کے دعووں کا پول کھول دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس کے اربوں روپے کے وسائل اور زکوٰۃ و عشر جیسے مقدس فنڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں کے انکشافات نے صوبائی حکومت کے اخلاقی و سیاسی گراف پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، عوام کو مستقل سیاسی احتجاج اور “اڈیالہ جیل” کے بیانیے میں الجھا کر پسِ پردہ کرپشن اور بدانتظامی کا بازار گرم ہے۔

سہیل آفریدی حکومت کے دور میں زکوٰۃ جیسے حساس فنڈز میں کرپشن کے الزامات محض مالی بدعنوانی نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی دیوالیہ پن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ زکوٰۃ کا پیسہ جو بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کا حق ہے، اس میں خرد برد کے الزامات نے “عوامی حکومت” کے لبادے کو چاک کر دیا ہے۔ صوبے کے عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر محکموں کے اندر جاری مبینہ لوٹ مار پر اینٹی کرپشن جیسے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ احتساب صرف مخالفین کے لیے ہے۔

اسی طرح، آئل اینڈ گیس سے حاصل ہونے والے اربوں روپے کے وسائل جو صوبے کی ترقی اور نوجوانوں کے روزگار پر خرچ ہونے چاہیے تھے، ان کا کوئی واضح نشان نظر نہیں آتا۔ سہیل آفریدی کی حکومت انتظامی نگرانی اور کرپشن کی روک تھام میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے، جبکہ اس کی تمام تر توجہ صرف سیاسی شور شرابے اور الزام تراشی پر مرکوز ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اب جذباتی تقریروں اور ٹویٹس کے بجائے اپنے وسائل کا حساب مانگ رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جو حکومت غریب کے زکوٰۃ فنڈ کی حفاظت نہ کر سکے، وہ عوامی حقوق کی محافظ کہلانے کا حق کھو دیتی ہے۔ اگر ان مبینہ بے ضابطگیوں کی فوری اور شفاف تحقیقات نہ کی گئیں اور ذمہ داروں کا تعین نہ ہوا، تو یہ واضح ہو جائے گا کہ صوبے میں بدانتظامی کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ کے پی کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ ان کا حق کہاں گیا اور احتساب کا نعرہ لگانے والے آج خود احتساب سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟

دیکھئیے:عوامی ریلیف پر سیاسی جنون غالب: خیبر پختونخوا میں ‘گورننس’ کے بجائے ‘احتجاج’ کا راج؛ سہیل آفریدی حکومت کی ترجیحات پر سوالیہ نشان

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *