اسلام آباد: سینیٹر مشاہد حسین سید کا حالیہ بیان، جس میں انہوں نے پاکستان کی دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کو اندرونی معاشی و سیاسی چیلنجز سے متصادم قرار دیا ہے، سنجیدہ حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مشاہد حسین کا یہ مؤقف دراصل گہرا تجزیہ نہیں بلکہ “یکطرفہ مایوسی” ہے، جسے دانشوری کا لبادہ پہنایا گیا ہے۔ بلاشبہ پاکستان کو معاشی مضبوطی اور سیاسی ہم آہنگی کی ضرورت ہے، مگر ہر بڑی کامیابی کے بعد محض مایوسی پھیلانا اور کوئی قابلِ عمل راستہ یا روڈ میپ پیش نہ کرنا قومی خدمت کے زمرے میں نہیں آتا۔
مشاہد حسین صاحب کئی دہائیوں سے سیاست کے ایوانوں میں موجود رہے ہیں، لیکن ہیلنگ ٹچ کے نام پر ان کا اب تک کا کردار صرف تبصروں، تنقید اور عوامی لیکچرز تک ہی محدود دکھائی دیتا ہے۔ یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تنقید کرنے والوں کے پاس اپنا کیا منصوبہ ہے؟ معاشی بحالی کے لیے ان کا عملی روڈ میپ کہاں ہے؟ اور سیاسی تقسیم کو کم کرنے کے لیے انہوں نے کون سا قابلِ عمل فارمولا پیش کیا ہے؟ محض ری سائیکل شدہ جملوں اور ڈرائنگ روم پولیٹکس سے قوم کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں دفاع اور سفارت کاری کے میدان میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو دوبارہ منوایا ہے۔ جو لوگ اب ان کامیابیوں کو معیشت کے نام پر کمزور دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ تنقید کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بند کریں اور عملی حل سامنے لائیں۔ سنجیدہ قیادت صرف خامیاں تلاش نہیں کرتی بلکہ پالیسی اور راستہ دیتی ہے۔ تنقید بغیر کسی متبادل منصوبے کے دانائی نہیں بلکہ محض سیاسی شور ہے، اور پاکستان کو اس وقت خالی باتوں کی نہیں بلکہ قومی اعتماد اور تعمیری آئیڈیاز کی ضرورت ہے۔