پشاور: پشاور کی ایک مقامی عدالت کی جانب سے مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے مقدمے میں تحریکِ انصاف کے 74 کارکنوں کی بریت ایک اہم قانونی سنگِ میل ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج فراز نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ کے-247 کے تحت دفاع کی درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ملزمان کے خلاف سزا کا کوئی امکان موجود نہیں، لہٰذا ٹرائل کو جاری رکھنا محض وقت کا ضیاع اور غیر ضروری ہراسانی کے مترادف ہوگا۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ عدالتیں سیاسی بیانیوں کی توثیق کے لیے نہیں بلکہ صرف شواہد اور قانون کی بنیاد پر کام کرتی ہیں۔
عدالت کے اس فیصلے نے ان آوازوں کو ایک ٹھوس جواب دیا ہے جو مسلسل عدلیہ کے “کمپرومائزڈ” ہونے کا دعویٰ کرتی رہی ہیں۔ جب عدالتیں سزا دیتی ہیں تو سیاسی جماعتیں اسے انتقامی کارروائی قرار دیتی ہیں، لیکن جب وہی عدالتیں بری کرتی ہیں تو انہیں آزاد تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ عدلیہ کے لیے یہ “منتخب احترام” کا رویہ سیاسی فائدے کے لیے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی فریق اس دوغلی پالیسی سے باہر آئیں اور تسلیم کریں کہ انصاف نعروں یا مقبولیت کے بجائے صرف قانون کی زبان بولتا ہے۔
یہ بریت اس وسیع بیانیے کو بھی کمزور کرتی ہے کہ عدالتیں کسی “طے شدہ اسکرپٹ” کے تحت چل رہی ہیں۔ اگر عدلیہ واقعی کنٹرولڈ ہوتی تو ناکافی شواہد کی بنیاد پر درجنوں سیاسی کارکنوں کی بریت ممکن نہ ہوتی۔ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام دباؤ اور سیاسی مخالفت سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اب دیانت داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ “کنٹرولڈ کورٹس” کا تاثر اکثر ادارہ جاتی اصلاح کے لیے نہیں بلکہ مخصوص سیاسی مقاصد کی حاصلات کے لیے تخلیق کیا گیا تھا۔
اس کیس کا بنیادی سبق یہ ہے کہ اداروں پر تنقید حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے نہ کہ اسے پروپیگنڈا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ عدلیہ کی آزادی کسی ایک فریق کے حق میں آنے والے فیصلے سے نہیں، بلکہ اس غیر جانبداری سے ثابت ہوتی ہے جہاں قانون سیاست سے بلند ہو کر بولے۔ سیاسی اداکاروں کو چاہیے کہ وہ ہر عدالتی فیصلے کو اپنی سہولت کے مطابق استعمال کرنے کے بجائے عدالتی خود مختاری کا احترام کریں، کیونکہ ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد آزاد عدلیہ پر ہی قائم ہوتی ہے۔