اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن یوناما کی جانب سے کابل میں مبینہ شہری ہلاکتوں سے متعلق جاری کردہ رپورٹ کو ماہرین اور متعلقہ حلقوں نے حقائق کی مسخ شدہ تصویر اور طالبان کے زیرِ اثر تیار کردہ بیانیہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق یو این اے ایم اے کی رپورٹ میں پاکستان کو درپیش سرحد پار دہشت گردی کے سنگین خطرات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔
صرف سال 2025 میں پاکستان کو افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 1,957 جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 3,079 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ یو این اے ایم اے نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر ہونے والے واقعات کی نگرانی نہیں کرتا، جو اس کی رپورٹنگ کے غیر متوازن اور جانبدار ہونے کا بین ثبوت ہے۔
طالبان کا دباؤ اور غیر معتبر تصدیق
ماہرین کا کہنا ہے کہ یو این اے ایم اے کی نام نہاد تصدیق شدہ رپورٹنگ ایک ایسے ماحول میں تیار ہوتی ہے جو مکمل طور پر طالبان کے مسلح گروہ کے کنٹرول میں ہے۔ جہاں معلومات، گواہوں تک رسائی اور مقامی ڈھانچے سب ان کے زیرِ اثر ہیں، وہاں آزاد تصدیق کے دعوے محض ایک ڈھونگ ہیں۔ مزید برآں، یو این اے ایم اے کے اہلکار طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات اور سیکیورٹی خطرات کے باعث شدید دباؤ میں کام کرتے ہیں اور حقائق کے بجائے طالبان کے ‘پروپیگنڈا سیل’ کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔
عسشہری علاقوں میں منتقلی
رپورٹ میں جس “امید ڈرگ ریہیبلیٹیشن فیسلٹی” کا ذکر کیا گیا ہے، وہ دراصل سابقہ فوجی کیمپ “فینکس” کے اندر واقع تھی اور اسلحہ کے بڑے ذخیرے سے محض 200 میٹر کے فاصلے پر تھی۔ “افغانستان گرین ٹرینڈ” کی جانب سے جاری کردہ نقشوں سے ثابت ہوا ہے کہ طالبان نے کابل کے گنجان آباد بازاروں اور شہری علاقوں میں اسلحہ سے بھرے 23 کنٹینرز منتقل کیے ہیں تاکہ انہیں “انسانی ڈھال” کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
ثانوی دھماکوں کے شواہد
جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 18 اور 19 کے تحت طبی یا فلاحی مراکز کو حاصل تحفظ اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب انہیں عسکری مقاصد یا اسلحہ چھپانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ پاکستانی کارروائیوں کا ہدف مخصوص ڈرون اسٹوریج، تکنیکی سہولیات اور اسلحہ ڈپو تھے جو پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔ حملے کے بعد جاری ہونے والی تصاویر میں گہرے گڑھوں کی عدم موجودگی اور تباہی کا انداز واضح طور پر “ثانوی دھماکوں” کی نشاندہی کرتا ہے، جو وہاں موجود بارود کے ذخیرے کی موجودگی کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔
پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار
پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی ہے۔ حالیہ آپریشنز خالصتاً ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم تنظیموں کے عسکری ڈھانچے کے خلاف تھے جنہیں طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ رپورٹ میں جن افراد کو “شہری” کہا گیا ہے، وہ دراصل افغانستان میں موجود 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے کارندے یا ان کے اہلِ خانہ تھے جو انہی عسکری کمپاؤنڈز میں مقیم تھے۔ پاکستان نے ہمیشہ قبائلی جرگوں اور مقامی عمائدین کے ذریعے سرحد پار دراندازی روکنے کی کوششوں کو خوش آمدید کہا ہے۔
حاصلِ کلام
بنیادی حقیقت یہ ہے کہ طالبان حکومت سویلین علاقوں میں عسکری ڈھانچہ چھپا کر انسانی ہلاکتوں کو پراپیگنڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ یو این اے ایم اے اپنی سفارشات میں طالبان سے شہری علاقوں کی عسکریت ختم کرنے کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے حقائق کا درست ادراک کریں اور دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف کی جانے والی جائز کارروائیوں کو متنازع بنانے کے بجائے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا نوٹس لیں۔