اسلام آباد: عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار اور حالیہ کامیابیوں نے بھارت اور اسرائیل کے مشترکہ مفادات کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سینئر تجزیہ کاروں اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بار بار پاکستان کا نام لینا کوئی اتفاق نہیں بلکہ یہ دشمنوں کی گھبراہٹ کی واضح علامت ہے۔ معرکۂ حق کے دوران بھی اسرائیل نے بھارت کی بھرپور مدد کی تھی جس کا مقصد پاکستان کے دفاعی حصار کو کمزور کرنا تھا۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور ایران امریکہ کشیدگی میں ایک مخلص اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنی صلاحیتیں منوائی ہیں۔ پاکستان کے اس ذمہ دارانہ کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے تاہم چند مخصوص طاقتیں اس پائیدار امن کی کوششوں سے ناراض ہیں۔ یہی طاقتیں اب اپنے پرانے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متحرک ہو چکی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اسی سلسلے کی کڑی ہیں کیونکہ اتنے بڑے پیمانے کی کارروائیاں صرف افغانستان کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ بھارت اور اسرائیل جیسی عالمی طاقتوں کی منصوبہ بندی شامل ہے۔
بھارتی میڈیا اور اسرائیلی حکام کی جانب سے پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم دراصل پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی وزن کا نتیجہ ہے۔ اسرائیل خطے میں جنگ اور تباہی کا ذریعہ بنا ہوا ہے اور وہ پاکستان کے پرامن کردار سے خائف ہے۔ بھارت اب اسرائیل کی پشت پناہی سے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ان مشترکہ سازشوں کا واحد مقصد ایک مضبوط اور خود مختار پاکستان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے جو ان کے توسیع پسندانہ عزائم کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہے۔
ریاستِ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا بیرونی پروپیگنڈا سے مرعوب نہیں ہوگی۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت قومی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی ہو یا بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ پاکستان ان تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان خطے میں امن کا داعی ضرور ہے لیکن جب بات قومی وقار کی آئے گی تو دشمن کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔