چناب بیاس لنک ٹنل کیس کی سماعت 16 ستمبر کو ہو گی، حکومت سے عالمی فورمز پر رجوع کا مطالبہ۔

August 22, 2026

اقوام متحدہ کی 38ویں رپورٹ نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور 2 ہزار جنگجوؤں کی موجودگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

August 22, 2026

وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت 6 ماہ کے لیے فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

August 22, 2026

اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

August 22, 2026

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی کا بھی مطالبہ۔

August 22, 2026

زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

August 22, 2026

قومی اسمبلی یا سیاسی سرکس؟ قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے پر پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا، جنید اکبر اور اقبال آفریدی کے درمیان ہاتھا پائی

یہ لڑائی کرسی اور فنڈز کے ذاتی مفادات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے جہاں عوام کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ جب ان انقلابیوں کا اندرونی مفاد ٹکراتا ہے تو یہ ایک دوسرے پر جانوروں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں۔ یہ گروہ خود کو ظلم کے خلاف جدوجہد کا علمبردار کہتا ہے لیکن حقیقت میں یہ خود ایک دوسرے کے لیے سب سے بڑا ظلم ثابت ہو رہے ہیں۔
پی ٹی آئی اراکین کی لڑائی

یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک ریاستِ مدینہ کا ڈھونگ رچا رہے تھے لیکن آج ایوان کے اندر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔

May 13, 2026

اسلام آباد: قومی اسمبلی کا اجلاس اس وقت میدانِ جنگ بن گیا جب پی ٹی آئی کے دو اراکین جنید اکبر اور اقبال آفریدی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔ یہ شرم ناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب اقبال آفریدی نے ایوان میں بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاجاً کورم کی نشاندہی کی۔ اس اقدام پر دونوں اراکین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی اور تھپڑوں میں بدل گئی جس سے پارلیمان کا وقار ایک بار پھر پاؤں تلے روندا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک ریاستِ مدینہ کا ڈھونگ رچا رہے تھے لیکن آج ایوان کے اندر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ پی ٹی آئی کے اراکین کی جانب سے پارلیمان کو سرکس بنانے کے اس عمل نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی سیاسی شعور ہے اور نہ ہی پارلیمانی آداب کا پاس ہے۔ ان کے پاس صرف ہنگامہ آرائی اور ایک دوسرے پر حملے کرنے کی ہمت ہے جبکہ کورم جیسے پارلیمانی ضابطے بھی یہ صرف اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی کرسی اور فنڈز کے ذاتی مفادات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے جہاں عوام کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ جب ان انقلابیوں کا اندرونی مفاد ٹکراتا ہے تو یہ ایک دوسرے پر جانوروں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں۔ یہ گروہ خود کو ظلم کے خلاف جدوجہد کا علمبردار کہتا ہے لیکن حقیقت میں یہ خود ایک دوسرے کے لیے سب سے بڑا ظلم ثابت ہو رہے ہیں۔

قومی اسمبلی جیسے مقدس ایوان میں اس طرح کا تماشہ لگانے پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ان اراکین نے اسی طرح دست و گریبان ہونا ہے تو سڑکوں پر جا کر لڑیں تاکہ کم از کم پارلیمان کی عزت تو بچ سکے۔ پی ٹی آئی کا یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ یہ کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ہے جو تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دے رہا ہے۔

دیکھئیے: اشرافیہ کے لئے قانون کی الگ رفتار؟ ایمان مزاری کیس میں سپریم کورٹ کی غیر معمولی تیزی پر سوالات

متعلقہ مضامین

چناب بیاس لنک ٹنل کیس کی سماعت 16 ستمبر کو ہو گی، حکومت سے عالمی فورمز پر رجوع کا مطالبہ۔

August 22, 2026

اقوام متحدہ کی 38ویں رپورٹ نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور 2 ہزار جنگجوؤں کی موجودگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

August 22, 2026

وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت 6 ماہ کے لیے فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

August 22, 2026

اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

August 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *