"> اشرافیہ کے لئے قانون کی الگ رفتار؟ ایمان مزاری کیس میں سپریم کورٹ کی غیر معمولی تیزی پر سوالات - HTN Urdu اشرافیہ کے لئے قانون کی الگ رفتار؟ ایمان مزاری کیس میں سپریم کورٹ کی غیر معمولی تیزی پر سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اشرافیہ کے لئے قانون کی الگ رفتار؟ ایمان مزاری کیس میں سپریم کورٹ کی غیر معمولی تیزی پر سوالات

سزا معطلی اور ضمانت کا ضابطہ فوجداری کے سیکشن چار سو چھبیس میں بالکل واضح ہے جس کے تحت سات سال سے زیادہ سزا والے مقدمات میں اپیل کا فیصلہ دو سال تک نہ آنے پر ہی عدالت معطلی کی درخواست سن سکتی ہے۔
ایمان مزاری

سزا یافتہ ہوئے محض ایک سو نو دن ہوئے ہیں جبکہ قانونی مدت سات سو تیس دن بنتی ہے۔

May 13, 2026

اسلام آباد: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت درخواست میں تاخیر کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے جہاں ابھی ہائی کورٹ نے درخواست پر فیصلہ نہیں کیا تھا لیکن اسے براہِ راست اعلیٰ عدالت کے سامنے لگوا لیا گیا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سزا معطلی اور ضمانت کا ضابطہ فوجداری کے سیکشن چار سو چھبیس میں بالکل واضح ہے جس کے تحت سات سال سے زیادہ سزا والے مقدمات میں اپیل کا فیصلہ دو سال تک نہ آنے پر ہی عدالت معطلی کی درخواست سن سکتی ہے۔

یہاں سزا یافتہ ہوئے محض ایک سو نو دن ہوئے ہیں جبکہ قانونی مدت سات سو تیس دن بنتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن کا نعرہ تھا کہ انصاف میں جلدی نہیں ہونی چاہیے اب وہ قانون کے ضابطوں سے باہر نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سوال اٹھایا کہ جب ہائی کورٹ میں کیس زیر التوا ہے تو سپریم کورٹ براہِ راست میرٹس پر کیسے جا سکتی ہے۔

عدالت نے مرکزی اپیل پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی پیشکش کی لیکن وکیل صفائی نے سزا معطلی پر ہی اصرار کیا۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے وکیل کو ضابطہ فوجداری پڑھنے کا حکم دیا جس سے یہ واضح ہوا کہ قانونی تاخیر کی بنیاد پر ابھی ضمانت کا حق نہیں بنتا تھا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ وہ تاخیر نہیں بلکہ حالات کے عبوری جائزے کی بنیاد پر ریلیف مانگ رہے ہیں۔

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے لیے کچھ مخصوص تنظیموں اور یورپی یونین کے نمائندوں کی غیر معمولی دلچسپی نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے. کمرہ عدالت میں یورپی یونین کے نمائندے کی موجودگی کو عدالتی عمل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اصل ہدف پیکا قانون ہے اور ایک مخصوص کیس کو بنیاد بنا کر ریاستی اختیار کو چیلنج کیا جا رہا ہے. عدالت نے آخر کار اسلام آباد ہائی کورٹ کو دو ہفتے میں ضمانت کا فیصلہ کرنے کی ہدایت دے دی ہے لیکن عام شہری اب بھی یہی سوال کر رہے ہیں کہ کیا غریب ملزمان کی درخواستیں بھی اسی رفتار سے سنی جاتی ہیں۔

دیکھئیے:یکطرفہ رپورٹ، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں دہشت گرد پناہ گاہوں اور انسانی ڈھال کے استعمال کو نظر انداز کرنے کا انکشاف

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *