باجوڑ اور شیخ ادریس قتل کے واقعات نے فتنہ الخوارج اور کابل انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ افغان سرزمین سے ہونے والی سرپرستی، آڈیو لیکس اور دہشت گردوں کی شناخت یہ ثابت کرتی ہے کہ سرحد پار موجود محفوظ پناہ گاہیں خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔

May 15, 2026

اے آر وائی نیوز نے علامہ طاہر اشرفی کے خلاف وائرل ہونے والے اسکرین شاٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ادارے کا اس بے بنیاد خبر سے کوئی تعلق نہیں۔

May 15, 2026

ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک اور 2 اہلکار شہید ہو گئے۔

May 15, 2026

فتنہ الخوارج کے نائب امیر اور ٹارگٹ کلر کی آڈیو لیک نے شیخ ادریس کے قتل کی سازش کو بے نقاب کر دیا، جس میں عالم دین کو ریاست کی حمایت پر نشانہ بنانے اور داعش کا نام بطور ڈھال استعمال کرنے کے حقائق سامنے آئے ہیں۔

May 15, 2026

باجوڑ کے ڈمانگی کیمپ حملے کی تحقیقات میں خودکش حملہ آور کی شناخت جلال الدین عرف سجاد (افغان شہری) کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ دیگر ہلاک دہشت گرد بھی افغان قرار دیے گئے ہیں۔

May 15, 2026

افغانستان میں طالبان کے زیرِ سایہ میڈیا اور ڈیجیٹل ہینڈلز کی جانب سے پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کے لیے منظم پروپیگنڈا مہم کا انکشاف ہوا ہے۔

May 15, 2026

ایک تنازع، کئی المیے

راجہ بازار راولپنڈی میں قرض کے تنازع سے شروع ہونے والا جھگڑا دو جانوں کے ضیاع پر ختم ہوا، جبکہ بعد ازاں خواتین کی گرفتاری، احتجاجی دھرنے اور شناختی دستاویزات سے محرومی جیسے مسائل نے ایک بڑے سماجی المیے کو بے نقاب کر دیا۔
راجہ بازار راولپنڈی میں قرض کے تنازع سے شروع ہونے والا جھگڑا دو جانوں کے ضیاع پر ختم ہوا، جبکہ بعد ازاں خواتین کی گرفتاری، احتجاجی دھرنے اور شناختی دستاویزات سے محرومی جیسے مسائل نے ایک بڑے سماجی المیے کو بے نقاب کر دیا۔

میری ان خواتین سے، جو خود کو خواتین کے حقوق کی علمبردار کہتی ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر اس حوالے سے آواز اٹھاتی ہیں، یہ مخلصانہ اپیل ہے کہ اگر واقعی وہ ان مظلوم عورتوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہیں تو صرف تقاریر تک محدود نہ رہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ایک مؤثر تحریک چلائی جائے، جس کے ذریعے مردوں میں شعور بیدار کیا جائے کہ خواتین کو شناختی دستاویزات جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ایک سنگین ناانصافی ہے۔

May 15, 2026

آٹھ مئی کو راجہ بازار راولپنڈی میں قرض کی رقم کے تنازع پر زین اور دکاندار سراج کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر گئی۔ بات اس حد تک بڑھ گئی کہ محض لفظوں تک محدود نہ رہی ایک افسوسناک سانحے میں بدل گئی۔ اسی کشیدگی کے دوران زین نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں سراج موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ واقعے کے فوراً بعد صورتحال مزید بگڑ گئی، جب سراج کے بھائی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے زین کو بھی قتل کر دیا۔ یوں ایک معمولی مالی جھگڑا دو قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن گیا اور کئی خاندانوں کو غم و اندوہ میں مبتلا کر گیا۔

اس سانحے کے بعد پولیس کے طرزِ عمل پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھے۔ سراج کی میت کے ساتھ ان کی بیوہ، ضعیف والدہ اور دیگر خواتین رشتہ داروں کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ زین کے قتل میں نامزد افراد کو پیش کیا جائے۔ اس اقدام کو قانونی اور اخلاقی دونوں حوالوں سے نامناسب قرار دیا گیا، کیونکہ ان خواتین کا نہ تو اس واقعے سے کوئی براہِ راست تعلق تھا اور نہ ہی وہ کسی مقدمے میں نامزد تھیں۔ اس صورتحال نے متاثرہ خاندان کے دکھ میں مزید اضافہ کیا اور انصاف کے تقاضوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔

مزید برآں، خواتین کی رہائی کے لیے بعد ازاں ایک پُرامن احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس کا مقصد واضح تھا کہ زیرِ حراست خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اس دھرنے میں پختون برادری، خصوصاً وزیرستان سے تعلق رکھنے والی مختلف تنظیموں کے عہدیداران، کارکنان اور بڑی تعداد میں رضاکار شریک ہوئے۔ فضا جذبات سے بوجھل تھی، ہر طرف تقاریر ہو رہی تھیں اور اپنے حق کے لیے بلند ہونے والی آوازیں گونج رہی تھیں۔ اس موقع پر خواتین بھی پیش پیش تھیں، جو نہایت جرأت اور درد بھرے انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کر رہی تھیں۔

بالآخر ایک جرگہ منعقد کیا گیا، جس میں تمام معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جرگے کے فیصلے کے نتیجے میں زیرِ حراست خواتین کو رہا کر دیا گیا، جس کے بعد حالات میں وقتی طور پر سکون آ گیا اور کشیدگی میں کمی محسوس ہوئی۔ تاہم اس سارے معاملے میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اگر یہی جرگہ بروقت، یعنی کسی بڑے نقصان سے پہلے منعقد کر لیا جاتا اور مسئلے کو ابتدا ہی میں افہام و تفہیم سے حل کر لیا جاتا، تو شاید یہ سانحہ اس حد تک نہ پہنچتا۔ بدقسمتی سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب تک کوئی واقعہ سنگین صورت اختیار نہ کر لے، سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جاتے، اور جیسے ہی معاملہ میڈیا کی توجہ حاصل کرتا ہے، سب اچانک متحرک ہو جاتے ہیں۔

اسی دھرنے کے دوران ایک خاتون نے نہایت جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے اس مسئلے کو وسیع تناظر میں پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترنول سے لے کر اسلام آباد تک، جہاں جہاں پختون آباد ہیں وہاں خواتین کو مختلف طریقوں سے حراست میں لیا جاتا ہے۔ کبھی جیلوں میں اور کبھی افغان ڈیپورٹیشن سینٹر جیسے مقامات پر۔

اس حوالے سے تحقیق اور شواہد اکٹھے کرنے کے بعد جو حقیقت سامنے آئی، وہ نہ صرف چونکا دینے والی تھی بلکہ دل کو گہرے دکھ سے بھر دینے والی بھی۔ ان سینٹرز میں خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، بلوچستان اور دیگر دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی بے شمار خواتین موجود تھیں۔ حیران کن طور پر ان میں سے صرف چند خواتین بلاک شناختی کارڈ کی بنیاد پر حراست میں تھیں، جبکہ اکثریت کے پاس کسی قسم کی قومی دستاویزات ہی موجود نہیں تھیں۔

ان خواتین کی حالتِ زار سے ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آئی کہ ان کا اپنا کوئی قصور نہیں تھا۔ اصل ذمہ داری ان مردوں پر عائد ہوتی ہے جو نہ تو ان کے شناختی کارڈ بنواتے ہیں، نہ بے فارم اور نہ ہی نکاح نامہ جیسے اہم دستاویزات رجسٹر کرواتے ہیں۔ ایک مرد اپنی بیوی سے متعدد بچے پیدا کرتا ہے، مگر نہ نکاح نامہ بنواتا ہے اور نہ اسے قانونی حیثیت دیتا ہے۔ وقت گزرتا ہے وہ دادا بھی بن جاتا ہے، مگر اپنی بیوی کو شناختی کارڈ جیسی بنیادی سہولت سے محروم رکھتا ہے۔ بعض خواتین نے دکھ کے ساتھ بتایا کہ گھر کے مرد اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ اگر خواتین کی تصویر شناختی کارڈ پر آ گئی تو لوگ انہیں پہچان لیں گے اور یوں خاندان کی نام نہاد عزت متاثر ہوگی۔ یہی سوچ ان خواتین کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھنے کا سبب بنتی ہے۔

مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان خواتین کی بڑی تعداد نہ تو تعلیم یافتہ ہے اور نہ ہی انہیں شناختی کارڈ یا بے فارم کی اہمیت کا ادراک ہے۔ ان کی زندگی کے تمام فیصلے مردوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور وہ خود اپنے حقوق سے مکمل طور پر ناواقف رہتی ہیں۔ وہ بے بسی اور پریشانی کی کیفیت میں دن گزارتی ہیں، اکثر روتی ہیں اور یہی سوچتی رہتی ہیں کہ اگر وہ یہاں سے باہر نکلیں گی تو معاشرہ انہیں کس نظر سے دیکھے گا اور اس بدنامی کا سامنا کیسے کریں گی۔ اگرچہ ان مراکز کا ماحول بظاہر پُرامن ہوتا ہے اور خواتین کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آیا جاتا ہے، مگر ان کے دلوں میں چھپی اذیت اور سماجی دباؤ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اب اصل سوال یہی ہے کہ قصور کس کا ہے؟ کیا ان پولیس اہلکاروں کا جو خواتین کو گھروں سے اٹھاتے ہیں؟ کیا ان بے بس خواتین کا یا ان مردوں کا جو انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھتے ہیں؟

میری ان خواتین سے، جو خود کو خواتین کے حقوق کی علمبردار کہتی ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر اس حوالے سے آواز اٹھاتی ہیں، یہ مخلصانہ اپیل ہے کہ اگر واقعی وہ ان مظلوم عورتوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہیں تو صرف تقاریر تک محدود نہ رہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ایک مؤثر تحریک چلائی جائے، جس کے ذریعے مردوں میں شعور بیدار کیا جائے کہ خواتین کو شناختی دستاویزات جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ایک سنگین ناانصافی ہے۔ جب تک اس سوچ کو تبدیل نہیں کیا جائے گا تب تک نہ جانے کتنی عورتیں اسی طرح خاموشی سے ظلم سہتی رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

باجوڑ اور شیخ ادریس قتل کے واقعات نے فتنہ الخوارج اور کابل انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ افغان سرزمین سے ہونے والی سرپرستی، آڈیو لیکس اور دہشت گردوں کی شناخت یہ ثابت کرتی ہے کہ سرحد پار موجود محفوظ پناہ گاہیں خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔

May 15, 2026

اے آر وائی نیوز نے علامہ طاہر اشرفی کے خلاف وائرل ہونے والے اسکرین شاٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ادارے کا اس بے بنیاد خبر سے کوئی تعلق نہیں۔

May 15, 2026

ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک اور 2 اہلکار شہید ہو گئے۔

May 15, 2026

فتنہ الخوارج کے نائب امیر اور ٹارگٹ کلر کی آڈیو لیک نے شیخ ادریس کے قتل کی سازش کو بے نقاب کر دیا، جس میں عالم دین کو ریاست کی حمایت پر نشانہ بنانے اور داعش کا نام بطور ڈھال استعمال کرنے کے حقائق سامنے آئے ہیں۔

May 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *