افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام کام کرنے والے میڈیا اور ڈیجیٹل پراپیگنڈا ہینڈلز کی جانب سے پاکستان کے خلاف ایک انتہائی منظم، مربوط اور جارحانہ مہم منظرِ عام پر آئی ہے۔ حالیہ شواہد اس تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان کا معلوماتی ماحول اب صحافت کے بجائے مکمل طور پر ایک آمریت پسند پراپیگنڈا مشینری میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں حقائق کی جگہ ہیرا پھیری اور غلط معلومات نے لے لی ہے۔
بھارتی ماڈل کی پیروی
ایک حالیہ واقعے کے مشاہدے سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ محض 2 گھنٹے اور 19 منٹ کے مختصر دورانیے میں کم از کم 9 افغان میڈیا اور ڈیجیٹل پراپیگنڈا ہینڈلز نے غزنی میں مبینہ فضائی حملے کے حوالے سے بالکل ایک جیسے اور غیر مصدقہ دعوے بیک وقت شائع کیے۔ اس مہم کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ کسی بھی آزادانہ تصدیق، شواہد یا زمینی حقائق کے جائزے سے قبل ہی تمام ہینڈلز نے فوری طور پر پاکستان کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ یہ طریقہ کار براہِ راست بھارتی ‘ڈس انفارمیشن ماڈل’ کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد الزامات کے ذریعے ڈیجیٹل فضا میں جذباتی ہیجان پیدا کرنا، غم و غصے کو مصنوعی طور پر ابھارنا اور بعد ازاں کسی بھی قسم کی حقائق پر مبنی چھان بین کی گنجائش کو ختم کرنا ہے۔
صحافت کے لبادے میں جنگ
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل صحافت نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ‘بیانیہ جنگ’ ہے، جسے تکرار، جذباتی کنڈیشننگ اور مربوط غلط معلومات کے ذریعے عوامی ادراک کو تبدیل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ طالبان کے دورِ حکومت میں میڈیا کا ماحول تیزی سے ایک ایسے مرکزی نظریاتی نظام میں ڈھل چکا ہے جہاں پاکستان مخالف بیانیے کو منظم طریقے سے ایمپلیفائی کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے برعکس کسی بھی سچائی یا حقیقت کو سختی سے دبا دیا جاتا ہے۔
حقائق سے عاری رپورٹنگ
تحقیقاتی تجزیے کے مطابق جب پاکستان کے خلاف یہ الزامات گردش کر رہے تھے، اس وقت کسی بھی قسم کے فرانزک ثبوت، آپریشنل تفصیلات، سیٹلائٹ تصاویر یا آزادانہ تصدیق کا کوئی وجود نہ تھا۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ ان نیٹ ورکس کے لیے معروضی رپورٹنگ کبھی ترجیح تھی ہی نہیں، بلکہ “پہلے الزام تراشی اور تصدیق کبھی نہیں” کا کلچر اب طالبان کے زیرِ اثر پروپیگنڈا نظام کی مستقل پہچان بن چکا ہے۔
عسکریت پسندوں کا تحفظ اور دہرا معیار
اس پوری صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو ان پروپیگنڈا نیٹ ورکس کا دہرا معیار ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان کے خلاف من گھڑت کہانیاں گھڑی جا رہی ہیں، وہیں دوسری جانب یہی نیٹ ورکس تحریک طالبان پاکستان کی پناہ گاہوں، سرحد پار دہشت گردی، غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی اور افغانستان کے شہری علاقوں کو عسکری رنگ دینے جیسے سنگین معاملات پر مکمل طور پر خاموش ہیں۔