سوشل میڈیا پر معروف مذہبی شخصیت علامہ طاہر اشرفی کے خلاف گردش کرنے والی ایک مبینہ خبر کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ اے آر وائی نیوز نے باضابطہ طور پر وضاحت جاری کرتے ہوئے ان کے نام سے منسوب اسکرین شاٹ کو سراسر جعلی اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
علامہ طاہر اشرفی کا ذکر
گزشتہ چند گھنٹوں سے سوشل میڈیا پر اے آر وائی نیوز کے ٹیمپلیٹ میں ایک اسکرین شاٹ تیزی سے وائرل ہو رہا تھا جس میں علامہ طاہر اشرفی کے حوالے سے انتہائی نامناسب اور بے بنیاد دعوے کیے گئے تھے۔ اس جعلی پوسٹ میں ایک خاتون ملزمہ کے حوالے سے یہ من گھڑت دعویٰ کیا گیا تھا کہ علامہ طاہر اشرفی ان کے “صارفین” میں شامل ہیں۔ اس مذموم مہم کا مقصد بظاہر علامہ طاہر اشرفی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور عوامی سطح پر گمراہی پھیلانا تھا۔
اے آر وائی نیوز کا مؤقف
معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اے آر وائی نیوز کے آفیشل ہینڈل سے اس کی تردید جاری کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اسکرین شاٹ جعلی ہے اور ادارے نے ایسی کوئی خبر نشر نہیں کی۔ نیوز چینل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی غیر تصدیق شدہ اور گمراہ کن معلومات کو شیئر کرنے سے گریز کریں۔
سوشل میڈیا پر اے آر وائی نیوز کے نام سے ایک جعلی اسکرین شاٹ گردش کر رہا ہے۔
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) May 15, 2026
براہِ کرم غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔#ARYNews pic.twitter.com/UYXw8SOrog
منظم مہم کا خدشہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں اہم مذہبی اور سیاسی شخصیات ( جو حکومتِ وقت کی حامی ہیں) کو نشانہ بنانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور فوٹو شاپ کے ذریعے جعلی اسکرین شاٹس بنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ علامہ طاہر اشرفی کے خلاف یہ حالیہ مہم بھی اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے، جس کا مقصد مذہبی قیادت کے خلاف نفرت انگیز مواد تیار کرنا ہے۔