خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ڈمانگی کیمپ پر ہونے والے حالیہ ہلاکت خیز دہشت گرد حملے کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تازہ ترین تحقیقاتی معلومات کے مطابق گزشتہ رات کیے گئے اس بزدلانہ حملے میں ملوث خودکش بمبار کی شناخت ایک افغان شہری کے طور پر کر لی گئی ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب ڈمانگی کیمپ کو نشانہ بنانے والے خودکش بمبار کا نام جلال الدین عرف سجاد تھا، جس کا تعلق افغانستان سے تھا۔ مزید برآں، حملے کے دوران جوابی کارروائی میں مارے جانے والے دیگر دہشت گردوں کے بارے میں بھی تصدیق ہوئی ہے کہ وہ تمام افغان باشندے تھے اور سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے داخل ہوئے تھے۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق دہشت گردوں نے ڈمانگی کیمپ پر حملہ کر کے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، تاہم فورسز کی موثر جوابی کاروائی کے نتیجے میں حملہ آور اپنے انجام کو پہنچے۔
Breaking news: The suicide bomber of the deadly terrorist attack on the Damangi camp in Bajaur district last night has been identified as an Afghan national, Jalaluddin alias Sajjad. The other militants killed in the attack were also Afghan nationals. More details will be shared… pic.twitter.com/VlQ1Ljj6u2
— Mahaz (@MahazOfficial1) May 15, 2026
خودکش بمبار جلال الدین کی شناخت اور دیگر حملہ آوروں کا افغان شہری نکلنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی سرزمین پر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں پڑوسی ملک میں موجود عناصر اور سہولت کار براہِ راست ملوث ہیں۔
یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سرحد پار دہشت گردی اور انتہا پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ سیکیورٹی حکام اس حوالے سے مزید فرانزک اور تکنیکی شواہد اکٹھے کر رہے ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کے اصل ماسٹر مائنڈز تک پہنچا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، حملے سے متعلق مزید اہم تفصیلات اور دیگر شواہد جلد ہی میڈیا کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے، جو افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے دعوؤں کو مزید تقویت فراہم کریں گے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر افغانستان کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔