اسلام آباد: سنہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دو جوہری ممالک کے درمیان ایک لازمہ قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے تحت مشرقی دریا بھارت اور مغربی دریا پاکستان کے حصے میں دیے گئے تھے۔ اگرچہ بھارت کو مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبوں کی مشروط اجازت ہے، لیکن معاہدہ اسے پانی ذخیرہ کرنے یا پاکستان کے زرعی اور معاشی وجود کے لیے اہم بہاؤ میں خلل ڈالنے سے سختی سے روکتا ہے۔
اپریل 2025 میں پہلگام واقعے کو بہانہ بنا کر بھارت نے یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش کی، جو کہ معاہدے کے متن میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی بھی فریق باہمی رضامندی کے بغیر اسے معطل نہیں کر سکتا۔ بھارت کے متنازع انجینئرنگ ڈیزائنز اور یکطرفہ اقدامات کے جواب میں پاکستان نے کامیابی کے ساتھ معاہدے کے تنازعات کے حل کا طریقہ کار نافذ کیا، جس کے نتیجے میں عالمی عدالتِ ثالثی نے 15 مئی 2026 کو ایک تاریخی ضمنی فیصلہ جاری کیا، جس نے پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد پر پاکستان کے موقف کو مکمل طور پر درست قرار دے دیا۔
اس تاریخی فیصلے تک پہنچنے کا سفر بھارت کی سفارتی اور قانونی پسپائی کی ایک طویل داستان ہے۔ جون ۲۰۲۵ میں پاکستان نے بھارت کے اس غیر قانونی رویے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا اور نئی دہلی کی یکطرفہ پسندی اور دھونس کی سفارت کاری کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔
اس کے بعد، عالمی عدالتِ ثالثی نے بھارت کے بائیکاٹ کے ہتھکنڈوں کو کچلتے ہوئے اپنے دائرہ اختیار کی توثیق کی، کیونکہ بھارت جانتا تھا کہ قانون اس کے ساتھ نہیں ہے اس لیے وہ اس عمل سے فرار اختیار کر رہا تھا۔ اگست 2025 میں عدالت نے مغربی دریاؤں پر پاکستان کے حقوق کی دوبارہ توثیق کی اور بھارت کے اس وہم کو دور کر دیا کہ وہ انجینئرنگ کی ہیرا پھیری سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کو روند سکتا ہے۔ اکتوبر 2025 میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصرین نے بھی بھارت کے رویے پر سنگین سوالات اٹھائے، جس سے نئی دہلی کے ذمہ دار عالمی طاقت ہونے کے کھوکھلے دعوے کا پردہ چاک ہو گیا، اور بھارت نے انسانی حقوق اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر مبنی ان سوالات کا کوئی جواب نہ دے کر اپنی روایتی مجرمانہ خاموشی برقرار رکھی۔
نومبر 2025 میں غیر جانبدار ماہرین نے واضح کر دیا کہ بھارت کی ضد اور عدم تعاون سے معاہدے کا متبادل نظام معطل نہیں ہو سکتا، کیونکہ بین الاقوامی قانون سیاسی ڈرامے بازی کے لیے نہیں رکتا۔ بھارت کی جانب سے بین الاقوامی احتساب کی توہین اس وقت مزید واضح ہو گئی جب وہ ۹ فروری 2026 کی آخری تاریخ تک بگلیہار اور کشن گنگا منصوبوں کا اہم ترین آپریشنل ڈیٹا فراہم کرنے میں ناکام رہا، جو کہ طریقہ کار کے حکم نامہ نمبر ۱۹ کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
مارچ 2026 میں غیر جانبدار ماہرین نے کشن گنگا، راٹلے اور بگلیہار منصوبوں کا ڈیٹا عالمی عدالتِ ثالثی کے ساتھ شیئر کرنے کا حکم دے کر بھارت کی تکنیکی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششوں کو مٹی میں ملا دیا۔ بالآخر مئی 2026 کے اس حالیہ فیصلے نے پانی ذخیرہ کرنے کی بھارتی خواہشات پر ایک بار پھر قانونی حدیں نافذ کر دیں اور نئی دہلی کو یاد دلایا کہ سندھ طاس کا نظام قانون سے چلتا ہے، کسی کی اجارہ داری سے نہیں چلتا۔
اب دنیا کا ہر معتبر قانونی فورم بھارت کو ایک ہی بات سمجھا رہا ہے کہ آپ دنیا بھر میں قوانین پر مبنی نظم و نسق کا مطالبہ اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک آپ خود اپنے گھر میں ایک بین الاقوامی معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
اب بھارت کا اصل مسئلہ پاکستان نہیں، بلکہ وہ تیزی سے پھیلتا ہوا بین الاقوامی ریکارڈ ہے جو معاہدوں، ثالثی اور قانونی رویوں کے خلاف اس کی سنگین نافرمانی اور توہین کو دستاویزی شکل میں محفوظ کر رہا ہے۔ اس پورے تنازع میں پاکستان قانون، طریقہ کار اور معاہدے کے تقدس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا، جبکہ دوسری طرف بھارت نے راہِ فرار اختیار کرنے، ڈرانے دھمکانے کے ہتھکنڈوں اور بین الاقوامی سطح پر سبکی کا انتخاب کیا۔ عالمی برادری اس تمام صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے اور اس معاملے پر قانونی ریکارڈ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ یہ واضح ہے کہ بھارت اب نہ صرف اپنی عالمی ساکھ کھو رہا ہے بلکہ اس کے پاس اپنے مؤقف کے حق میں کوئی ٹھوس دلیل بھی باقی نہیں رہی۔