"> جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کی ہڑتال پر شدید تحفظات؛ مسائل کا حل ہڑتال نہیں بلکہ مذاکرات ہیں - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کی ہڑتال پر شدید تحفظات؛ مسائل کا حل ہڑتال نہیں بلکہ مذاکرات ہیں

آزاد جموں و کشمیر کے عوام ہمیشہ سے پاکستان کے دل کے قریب رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شدید ترین معاشی مشکلات اور وفاقی سطح پر سخت بجٹ کے باوجود حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر نے یہاں کے عوام کو آٹا، بجلی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں غیر معمولی اور اربوں روپے کا ریلیف فراہم کیا ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہڑتال

آزاد کشمیر کا بجٹ مقامی آمدن سے زیادہ وفاقی مدد اور گرانٹس سے مضبوط ہوتا ہے، جو پاکستان کی مسلسل معاشی وابستگی کا عملی ثبوت ہے۔

May 17, 2026

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ۹ جون کو دی جانے والی ہڑتال کی کال نے خطے کے معاشی مستقبل اور عام آدمی کی روزمرہ زندگی کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ اسٹریٹجک اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی مطالبات اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، مگر بار بار کی ہڑتالوں، بندشوں اور احتجاجی سیاست سے سب سے بڑا نقصان حکومت کا نہیں بلکہ خطے کے غریب مزدور، چھوٹے دکاندار اور عام کشمیری کا ہوتا ہے۔ دکان بند ہوتی ہے تو دکاندار کا چولہا ٹھنڈا ہوتا ہے، اور جب راستے بند ہوتے ہیں تو سب سے زیادہ تکلیف کسی مریض یا امتحان دینے والے طالب علم کو اٹھانی پڑتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، آزاد جموں و کشمیر کے عوام ہمیشہ سے پاکستان کے دل کے قریب رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شدید ترین معاشی مشکلات اور وفاقی سطح پر سخت بجٹ کے باوجود حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر نے یہاں کے عوام کو آٹا، بجلی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں غیر معمولی اور اربوں روپے کا ریلیف فراہم کیا ہے۔ جہاں پاکستان کا عام شہری مہنگی بجلی، مہنگا آٹا، بھاری ٹیکسز اور شدید معاشی دباؤ برداشت کر رہا ہے، وہاں آزاد کشمیر میں خطیر سبسڈیز، گرانٹس اور خصوصی ترقیاتی فنڈز کے ذریعے عوامی بوجھ کو کم سے کم رکھنے کی مخلصانہ کوشش کی جا رہی ہے۔ آزاد کشمیر کا بجٹ مقامی آمدن سے زیادہ وفاقی مدد اور گرانٹس سے مضبوط ہوتا ہے، جو پاکستان کی مسلسل معاشی وابستگی کا عملی ثبوت ہے۔

معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ بار بار ہڑتالیں کرنے سے آٹا سستا نہیں ہوتا اور نہ ہی بجلی کا نظام بہتر ہوتا ہے، بلکہ اس سے صرف عام آدمی کا دن اور دیہاڑی ضائع ہوتی ہے۔ جب وفاق کی جانب سے اربوں روپے کی گرانٹس اور سبسڈیز دی جا رہی ہوں تو مسئلے کا حل بازار بند کرنا نہیں بلکہ اس امداد کے شفاف عمل درآمد اور عوامی نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ جو ہڑتال طالب علم کا امتحان، مریض کا علاج اور دیہاڑی دار کی روزی روٹی روک دے، وہ کسی بھی صورت عوامی مفاد کا متبادل نہیں کہلا سکتی۔ مسائل کا واحد اور پائیدار حل مسلسل ہڑتالوں کے بجائے مذاکرات، ذمہ دارانہ مکالمہ اور شفافیت کا راستہ اپنانے میں ہے۔

حکومتِ پاکستان اور آزاد کشمیر کی انتظامیہ کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی جاری رہے گی اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے گا، لیکن عام کشمیری کے روزگار، تعلیم اور صحت کو احتجاجی سیاست کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ احتجاج کا مقصد عوامی بہتری ہونا چاہیے، نہ کہ عوامی زندگی کو مفلوج کرنا۔ اب عام کشمیری کا اپنی قیادت سے اصل سوال یہی ہے کہ کیا اس قسم کی ہڑتالوں سے ان کا کوئی حق بحال ہوگا یا صرف ان کے اپنے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہوگا؟

دیکھئیے:بھارتی ‘جولی ووڈ’ کا نیا سیزن شروع: پاکستانی سرحد کے راستے لبنانی جنگجو کی کشمیر میں مبینہ انٹری؛ بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈا اسکرپٹ سستے ایکشن فلموں سے بھی بدتر

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *