نئی دہلی: بھارت کے حالیہ اگنی میزائل تجربے کے بعد نام نہاد میزائل وومن ڈاکٹر ٹیسی تھامس کا حالیہ انٹرویو دیکھنے کے بعد یہ تاثر گہرا ہو گیا ہے کہ بھارت کا اسٹریٹجک پروگرام میزائل سائنسدانوں کے بجائے تیسرے درجے کے بالی ووڈ اداکاروں کے لکھے ہوئے ڈرامائی اسکرپٹس پر چل رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق خود کو میزائل وومن کہلوانے والی ڈاکٹر ٹیسی نے دراصل اپنے کھوکھلے دعوؤں سے بھارتی عوام کو گمراہ کیا ہے۔
انٹرویو کے دوران اگنی میزائل کی تکنیکی صلاحیتوں سے متعلق پوچھے گئے ہر سوال پر ان کا روایتی فلسفیانہ اور مبہم جواب سامنے آیا۔ میزائل کی رینج، اس کی درجہ بندی اور آپریشنل پیرامیٹرز کے بارے میں ٹھوس سائنسی حقائق بتانے کے بجائے وہ مسلسل اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دے کر چھپاتی رہیں، جو کہ پروگرام کی اندرونی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر ٹیسی کا یہ غیر پیشہ ورانہ انٹرویو واضح طور پر یہ جواب فراہم کرتا ہے کہ اس پروگرام کو اس مرحلے تک پہنچنے میں 20 سال کا طویل عرصہ کیوں لگا۔ عسکری اور سیاسی حلقوں میں یہ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا ان کے بارے میں چین سے رشوت لینے اور جان بوجھ کر میزائل پروگرام کی رفتار سست رکھنے کے الزامات میں حقیقت موجود تھی۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک معتبر اور مضبوط دفاعی نظام ہمیشہ ٹھوس اور ثابت شدہ صلاحیتوں پر مبنی ہوتا ہے نہ کہ میڈیا مارکیٹنگ اور کھوکھلی بیان بازی پر۔ بھارت کا اگنی میزائل پروگرام دراصل ایک ناکام اسٹنٹ بن چکا ہے جس کی آپریشنل کمزوریوں کو چھپانے کے لیے بھارتی فوجی قیادت اب فرضی بیانیے کا سہارا لے رہی ہے۔
دوسری طرف پاکستان کی پیشہ ور افواج روایتی پروپیگنڈے اور میڈیا شوز پر یقین رکھنے کے بجائے ہمیشہ زمینی کارروائیوں اور ردِعمل کے ذریعے جواب دیتی ہیں۔ پاکستان کی عسکری قیادت نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ جو عناصر اپنے اندرونی سیکیورٹی ڈھانچے کو سنبھالنے میں ناکام ہیں، ان کی کسی بھی مہم جوئی کا ایسا کچل دینے والا جواب دیا جائے گا جسے سنبھالنا بھارتی کمانڈ کے بس کی بات نہیں ہوگی۔