کئی والدین نے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے اور گھر سے بے دخلی سے بچنے کے لیے سرجری کا کٹھن راستہ چنا، جبکہ متعدد ایسے گھرانے بھی سامنے آئے ہیں جہاں ایک سے زائد افراد نے اپنے گردے بیچے۔

May 17, 2026

کوئٹہ تفتان ہائی وے جیسی بین الاقوامی اور اسٹریٹجک شاہراہ پر دہشت گردوں کے مستقل یا عارضی کنٹرول کا بیانیہ سراسر جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔ یہ بزدل عناصر ریاست کے سامنے کھڑے ہونے کی کوئی طاقت نہیں رکھتے اور صرف ہٹ اینڈ رن کے بزدلانہ حملوں یا عارضی ناکہ بندی کی ناکام کوششوں کے ذریعے اپنی جھوٹی موجودگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

May 17, 2026

ذی الحج کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اہم اجلاس کراچی میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے کی۔ اجلاس میں مرکزی و زونل رویت ہلال کمیٹی کے ارکان سمیت محکمہ موسمیات اور سپارکو کے ماہرین نے بھی شرکت کی تاکہ سائنسی اور فنی معاونت حاصل کی جا سکے۔

May 17, 2026

پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شاہراہ پر مکمل طور پر متحرک ہیں اور تمام تر جائز ٹریفک، مسافروں اور تجارتی قافلوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ریاستِ پاکستان کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ ملکی انفراسٹرکچر یا عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،

May 17, 2026

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے کہ جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اس پر اللہ کے لیے حج کرنا فرض ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اسلام کی بنیاد جن پانچ ستونوں پر رکھی، ان میں حج بیت اللہ کو لازمی جزو قرار دیا ہے۔

May 17, 2026

جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جیسے معتبر عالمی ادارے نے خود پاکستان کے بینکاری تحفظات، قواعد و ضوابط اور مالیاتی ڈھانچے کی تعمیل کا باضابطہ اعتراف کیا ہے، تو ایسے میں شبر زیدی کا ملکی نظام پر سوال اٹھانا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جائزوں کی نفی اور ان کے ذاتی بغض کا عکاس ہے۔

May 17, 2026

بلوچوں کے حقوق کے نام پر بلوچوں کا ہی معاشی قتل کیوں؟؛ کوئٹہ-تفتان ہائی وے پر بی ایل اے کا جھوٹا دعویٰ مسترد، سیکیورٹی فورسز کا رٹ برقرار رکھنے کا عزم

کوئٹہ تفتان ہائی وے جیسی بین الاقوامی اور اسٹریٹجک شاہراہ پر دہشت گردوں کے مستقل یا عارضی کنٹرول کا بیانیہ سراسر جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔ یہ بزدل عناصر ریاست کے سامنے کھڑے ہونے کی کوئی طاقت نہیں رکھتے اور صرف ہٹ اینڈ رن کے بزدلانہ حملوں یا عارضی ناکہ بندی کی ناکام کوششوں کے ذریعے اپنی جھوٹی موجودگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
کوئٹہ تفتان ہائی وے

یہ ایک قومی شاہراہ ہے جو ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے اور اس پر کسی بھی دہشت گرد گروہ کی اجازت یا لسانی اجارہ داری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

May 17, 2026

کوئٹہ: کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے کوئٹہ تفتان این فورٹی ہائی وے پر “مکمل کنٹرول” کا مضحکہ خیز دعویٰ اور سیندک و ریکوڈک منصوبوں سمیت تمام مال بردار ٹرکوں اور تجارتی قافلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دراصل حقوق کے نام پر عام بلوچ کے معاشی قتل کی ایک اور گہری سازش ہے۔ علاقائی مبصرین اور مقامی رہنماؤں کے مطابق، بی ایل اے کی یہ گیدڑ بھبکیاں براہِ راست بلوچ عوام کے حقِ روزگار، حقِ آزادانہ نقل و حرکت، اور حقِ تجارت و معاشی سرگرمی پر بدترین حملہ ہیں، جس نے ان تخریب کاروں کے حقوق کے محافظ ہونے کے جھوٹے دعووں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

حقائق کے مطابق، کوئٹہ تفتان ہائی وے جیسی بین الاقوامی اور اسٹریٹجک شاہراہ پر دہشت گردوں کے مستقل یا عارضی کنٹرول کا بیانیہ سراسر جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔ یہ بزدل عناصر ریاست کے سامنے کھڑے ہونے کی کوئی طاقت نہیں رکھتے اور صرف ہٹ اینڈ رن کے بزدلانہ حملوں یا عارضی ناکہ بندی کی ناکام کوششوں کے ذریعے اپنی جھوٹی موجودگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک قومی شاہراہ ہے جو ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے اور اس پر کسی بھی دہشت گرد گروہ کی اجازت یا لسانی اجارہ داری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

دفاعی اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے لاکھوں جوانوں، مزدوروں، ٹرک ڈرائیوروں، اور ٹھیکیداروں کا چولہا اسی شاہراہ سے چلتا ہے، جہاں سے مقامی بلوچ تاجر پھل اور میوہ جات دوسرے صوبوں میں لے جاتے ہیں اور وہاں سے گندم، اناج اور دیگر ضروری اشیاء واپس لاتے ہیں۔ شاہراہ کے اطراف قائم سینکڑوں ہوٹل، ورکشاپس اور پٹرول پمپس بھی مقامی بلوچوں کے ہیں، جن کا کاروبار اس روڈ بلاک کے پروپیگنڈے سے ٹھپ ہو سکتا ہے۔ بھوک کے مارے معاشرے میں سڑک بند کرنا بغیر گولی کے قتلِ عام کے مترادف ہے، اور لاکھوں انسانوں کو معاشی طور پر مفلوج کرنا خودکشی پر مجبور کرنے کے برابر ہے۔

دہشت گرد تنظیمیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ اگر بلوچستان تجارت، معدنیات، سی پیک ، جدید بندرگاہوں اور علاقائی رابطوں کا مرکز بن گیا، تو ان کا تیار کردہ “محرومی اور حقوق” کا جھوٹا بیانیہ ہمیشہ کے لیے دم توڑ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شرپسند عناصر کبھی مزدوروں، کبھی اساتذہ، کبھی انجینئرز کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں اور کبھی ٹرانسپورٹرز کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ عام بلوچ اب اس حقیقت سے پوری طرح واقف ہے کہ ان کا اصل متاثرین بی ایل اے ہی ہے، جو صوبے کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے پسماندگی کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، اس لیے عام اور قانون پسند بلوچ کو ان دہشت گردوں سے جوڑنا یکسر غلط ہے۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز شاہراہ پر ٹریفک کی محفوظ اور بلا تعطل روانی کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح متحرک اور تعینات ہیں، اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والی انڈین پراکسیز کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ وفاق اور صوبائی حکومت کا موقف واضح ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے مقامی لوگوں کا ہے، اور روڈ ٹیررازم یا معاشی سبوتاژ کے ذریعے عام شہریوں کے روزگار کو متاثر کرنے والے شرپسند عناصر کو قانون کے آہنی ہاتھوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

دیکھئیے:کوئٹہ تفتان ہائی وے پر ریاست کی مکمل رٹ بحال؛ دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کی دھمکیاں اور سستی پراپیگنڈا مہم بری طرح ناکام

متعلقہ مضامین

کئی والدین نے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے اور گھر سے بے دخلی سے بچنے کے لیے سرجری کا کٹھن راستہ چنا، جبکہ متعدد ایسے گھرانے بھی سامنے آئے ہیں جہاں ایک سے زائد افراد نے اپنے گردے بیچے۔

May 17, 2026

ذی الحج کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اہم اجلاس کراچی میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے کی۔ اجلاس میں مرکزی و زونل رویت ہلال کمیٹی کے ارکان سمیت محکمہ موسمیات اور سپارکو کے ماہرین نے بھی شرکت کی تاکہ سائنسی اور فنی معاونت حاصل کی جا سکے۔

May 17, 2026

پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شاہراہ پر مکمل طور پر متحرک ہیں اور تمام تر جائز ٹریفک، مسافروں اور تجارتی قافلوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ریاستِ پاکستان کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ ملکی انفراسٹرکچر یا عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،

May 17, 2026

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے کہ جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اس پر اللہ کے لیے حج کرنا فرض ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اسلام کی بنیاد جن پانچ ستونوں پر رکھی، ان میں حج بیت اللہ کو لازمی جزو قرار دیا ہے۔

May 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *