پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن عزم استحکام کے تحت ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے اہم اور انتہائی مطلوب افغانی کمانڈر خارجی بصیر کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ کارروائی کے دوران اس کا ایک افغانی ساتھی زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کامیاب کاروائی سارا نان کے علاقے ارجم کلی میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ فورسز نے معلومات کے سہارے فتنہ الخوارج کے کمانڈر خارجی بصیر کو شعبان کے علاقے سے ٹریس کیا تھا، جس کے بعد مؤثر حکمت عملی کے تحت اسے انجام تک پہنچایا گیا۔
ہلاک ہونے والا خارجی بصیر، افغانی خارجی کمانڈر نور اللہ کا بیٹا تھا اور سیکورٹی فورسز پر ہونے والے متعدد دہشت گردانہ حملوں کا بنیادی منصوبہ ساز بتایا جاتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ خارجی بصیر شعبان کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کرنے والی تخریبی تشکیل کا آپریشنل کمانڈر بھی تھا۔ اس سے قبل رواں سال ۲2فروری کو پشین میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے فتنہ الخوارج کے 5 خودکش بمباروں کے گروہ کی نگرانی بھی اسی خارجی بصیر نے کی تھی۔
سکیورٹی حکام نے اس کامیاب آپریشن کو دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خلاف ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف آپریشنز مکمل خاتمے تک کامیابی سے جاری رہیں گے۔
دیکھیے: شمالی وزیرستان میں کلیئرنس آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے 22 دہشت گرد ہلاک؛ آئی ایس پی آر