اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی کونسلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت خطے میں دہشت گردی برآمد کر رہا ہے، جبکہ تحریکِ طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ جیسے دہشت گرد تنظیمیں دراصل نئی دہلی کے پراکسی گروہ ہیں۔
سلامتی کونسل میں پاکستان کے مؤقف کی ترجمانی کرتے ہوئے صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے افغان سرزمین کا استعمال کیا گیا، جہاں سے دہشت گردانہ حملوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی اور سہولت کاری کی گئی۔
انہوں نے افغان عبوری حکومت کے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک سوچی سمجھی اور گمراہ کن مہم کا حصہ قرار دیا اور واضح کیا کہ پاکستان نے اپنی بقا اور سلامتی کے لیے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر انتہائی درست اور ہدف شدہ آپریشن کیے۔
پاکستانی کونسلر نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے غاصبانہ قبضے کو دنیا کی نظروں سے چھپا نہیں سکتا، جہاں نہتے شہریوں کا قتلِ عام، گرفتاریاں اور انہیں زمینوں سے بے دخل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے اندر بھی مسلمانوں سمیت دیگر تمام اقلیتوں پر ریاستی ظلم و ستم اب ایک معمول بن چکا ہے، جبکہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو بھی مسلسل معطل رکھ کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ صائمہ سلیم نے اپنے بیان کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، بامقصد مکالمے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔
دیکھیے: ایٹمی دہشت گردی کا سنگین خطرہ؛ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں پر اقوام متحدہ کی تشویش