نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنرل اسمبلی کے لیے پاکستان کی جانب سے تیار اور پیش کردہ سالانہ رپورٹ کو اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔ یہ رپورٹ کونسل کے وسیع تر بحرانوں اور موضوعاتی امور پر کیے گئے اقدامات کا احاطہ کرتی ہے، جبکہ کونسل اور اقوام متحدہ کے دیگر رکن ممالک کے مابین شفافیت اور جواب دہی کو مستحکم کرنے پر زور دیتی ہے۔
اس تاریخی موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مسودہ پیش کیا اور واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 24(3) کے تحت سالانہ رپورٹنگ کا یہ عمل سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے مابین ادارہ جاتی مکالمے کا ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جولائی 2025 میں سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کو اس رپورٹ کا تعارفی حصہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جسے پاکستان نے نہایت ٹھوس، تجزیاتی اور حقیقت پسندانہ انداز میں مکمل کیا تاکہ کونسل کی مشاورت، چیلنجز اور حاصل کردہ نتائج کی درست عکاسی ہو سکے۔
سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ سال 2025 کے دوران مختلف خطوں میں پیدا ہونے والے پیچیدہ اور باہم جڑے بحرانوں پر سلامتی کونسل کی سرگرمیوں کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش ہم عصر خطرات، جاری اور نئے ابھرتے ہوئے تنازعات، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال اور ارتقائی خطرات کو شامل کیا گیا ہے۔
#PakistanAtUNSC
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) May 23, 2026
UN Security Council Adopts Pakistan-Drafted Annual Report to General Assembly by Consensus
– Our Press Release pic.twitter.com/HfpNJkLuqK
رپورٹ میں شہریوں کے تحفظ، امن سازی، تنازعات کی روک تھام، تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی و ذیلی علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون جیسے کلیدی شعبوں میں کونسل کے ردعمل کو اجاگر کیا گیا ہے۔
انہوں نے مشکل جغرافیائی و سیاسی ماحول کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقل تنازعات اور شدید تناؤ کے باوجود، جس نے بعض اوقات سیاسی تصفیوں اور اجتماعی کوششوں کو پیچیدہ بنایا، سلامتی کونسل نے استحکام کو فروغ دینے، امن کے عمل کی حمایت کرنے اور پائیدار امن و سلامتی کے حصول کے لیے کثیر الجہتی تعاون کو مضبوط بنانے میں اپنا مرکزی کردار جاری رکھا۔
پاکستان نے رپورٹ کی تیاری میں ایک کھلا اور جامع طریقہ کار اپنایا، جس میں کونسل اور جنرل اسمبلی کی ہدایات کے مطابق اقوام متحدہ کے وسیع تر رکن ممالک کو بھی شامل کیا گیا۔
پاکستانی مندوب نے مزید بتایا کہ 16 جنوری 2026 کو جنرل اسمبلی کے صدر کے تعاون سے رکن ممالک کا ایک غیر رسمی اجلاس بلایا گیا تھا، جس میں سامنے آنے والی آراء نے رپورٹ کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی۔ فروری کے اوائل میں کونسل کے موجودہ اور سبکدوش ہونے والے اراکین کے تعمیری تعاون سے تعارفی حصے پر مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوئے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر امید ظاہر کی کہ جنرل اسمبلی میں اس رپورٹ پر ہونے والی بحث سلامتی کونسل اور دیگر رکن ممالک کے مابین شفافیت، جواب دہی اور کثیر الجہتی تعاون کے جذبے کے تحت تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔