بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کا ایک بڑا اور ہولناک منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ تھانہ میریان کی حدود میں ہونے والے اس آپریشن کے دوران پولیس اور شرپسندوں کے مابین شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق پولیس کو میریان کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی اور تخریب کاری کی منصوبہ بندی سے متعلق ٹھوس انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئی تھیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر پولیس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ مقام کو گھیرے میں لے لیا۔
خود کو محصور پا کر دہشت گردوں نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی بھرپور جوابی حکمتِ عملی اپنائی۔ طویل مقابلے کے بعد پولیس کی مؤثر فائرنگ سے 8 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
اس شدید جھڑپ کے دوران پولیس کا ایک اہلکار بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا، جبکہ ایک اور اہلکار زخمی ہوا ہے، جسے فوری طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کے فوری بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور کسی بھی دوسرے ممکنہ خطرے کے سدِباب کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے بنوں پولیس کی اس شاندار کارروائی، غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پولیس جوانوں نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے صوبے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ انہوں نے شہید اہلکار کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک پولیس فرنٹ لائن فورس کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
دیکھیے: سوشل میڈیا پر ریپ ٹریک وائرل: ٹی ٹی پی کے سرغنہ نور ولی محسود کا اصل چہرہ بے نقاب