لاہور: سوشل میڈیا نیٹ ورک وی ٹونٹی فور اور امریکی ایکٹوسٹ ایرون ہچنگز کی جانب سے پاکستان کے بھٹہ سیکٹر میں جبری مشقت کے حوالے سے پھیلائے جانے والے سنسنی خیز بیانیے کو دفاعی اور سماجی ماہرین نے یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے حقیقت سے عاری پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق، مغربی این جی اوز کی جانب سے فنڈز اور عطیات جمع کرنے کے لیے “مغربی نجات دہندہ” کا جھوٹا ڈرامہ رچایا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک خاندان پاکستان بننے سے بھی 67 سال قبل، یعنی 1880 سے اینٹوں کے بھٹے پر قرض کے عوض جبری مشقت کر رہا ہے، جو کہ بذاتِ خود ایک مضحکہ خیز کہانی ہے۔
دیہی علاقوں میں بھٹہ خوری یا کاشتکاری کے لیے پیشگی رقم کا لین دین ایک روایتی معاشی نظام ہے، جسے غلامی کا رنگ دینا بدنیتی پر مبنی ہے۔ آج کے ڈیجیٹل پاکستان میں، جہاں غریب ترین طبقے کے پاس بھی اسمارٹ فون اور سستا انٹرنیٹ موجود ہے، وہاں کسی بھی قسم کی غلامی کا تصور عقل سے بالاتر ہے۔
پاکستان نے 1992 میں ‘بانڈڈ لیبر سسٹم (ابولیشن) ایکٹ’ کے ذریعے جبری مشقت کا مکمل خاتمہ کیا تھا، جبکہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 11 ہر قسم کی غلامی اور چائلڈ لیبر پر واضح پابندی عائد کرتا ہے۔ حال ہی میں حکومتِ پنجاب نے اس سلسلے میں ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے 10 فروری 2026 کو “پنجاب لیبر کوڈ 2026” نافذ کیا ہے، جو صوبے کی 48 ملین مضبوط لیبر فورس کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔
اس نئے کوڈ کے تحت مئی 2026 میں صوبائی اسمبلی نے کم از کم اجرت بڑھا کر 40,000 روپے ماہانہ مقرر کی ہے۔ مزید برآں، محکمہ لیبر کے ٹول فری ہیلپ لائن کے ذریعے اجرت کی شکایات پر فوری کارروائی کی جا رہی ہے، اور ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹیوں نے فیصل آباد، سرگودھا اور گجرات جیسے اضلاع میں 127 سے زائد انسدادِ استحصال اجلاس منعقد کیے ہیں۔ حکومتی کوششوں سے بھٹہ مزدوروں کے لیے 12,202 خصوصی شناختی کارڈز بنائے گئے ہیں تاکہ انہیں عدالتی اور بینکنگ سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے۔
پاکستانی اداروں، این جی اوز جیسے ‘اسپارک’، پیلر، ہیومن رائٹس کمیشن اور بھٹہ مزدور یونین کی دہائیوں پر محیط جدوجہد اور حالیہ حکومتی اصلاحات کو اب بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ‘فیملیز سیٹ فری’ کے سی ای او مائیک برکلے اور ‘کرسچن اکنامک فورم’ کے مینیجنگ ڈائریکٹر گرانٹ ویبسٹر نے وزیرِ اعظم آفس اور پنجاب حکومت کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد پاکستان کی کوششوں کو “پیشہ ورانہ، شفاف اور سیاسی عزم کا مظہر” قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ، امریکی کانگریس کی ‘کانگریشنل پاکستان کاکس’ کے شریک چیئرمین کانگریس مین ٹام سوزی اور جیک برگمین نے بھی پنجاب میں ہونے والی ان اصلاحات کا اعتراف کیا ہے۔ کانگریس مین ٹام سوزی نے ان اقدامات کو “قابلِ تحسین” قرار دیتے ہوئے اخلاقی سپلائی چین اور ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کے لیے پاک-امریکہ تعاون کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جس نے پاکستان مخالف سنسنی خیز بیانیے کو مکمل طور پر دفن کر دیا ہے۔
دیکھئیے:فیلڈ مارشل کی سفارت کاری اور اسلام آباد مذاکرات سے خطے میں جنگ کا خطرہ ٹل گیا