"> امریکہ اور ایران میں آج تاریخی معاہدہ متوقع
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ آج متوقع؛ امریکی وزیرِ خارجہ کا اہم اعلان

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے آج ہی معاہدہ طے پانے کا قوی امکان ظاہر کیا ہے، جس کے تحت ساٹھ روزہ جنگ بندی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی متوقع ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے آج ہی معاہدہ طے پانے کا قوی امکان ظاہر کیا ہے، جس کے تحت ساٹھ روزہ جنگ بندی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی متوقع ہے۔

امریکہ اور ایران کے مابین مجوزہ امن معاہدے کے تحت ساٹھ روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی تیل کی عالمی منڈی میں فروخت پر لگی پابندیوں میں نرمی کا امکان ہے۔

May 25, 2026

واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے دورہِ بھارت کے بعد روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے آج ہی معاہدہ ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُمید تھی کہ گزشتہ رات ہی اس حوالے سے کوئی حتمی خبر سامنے آ جائے گی، تاہم قوی امکان ہے کہ یہ اہم پیش رفت آج کے دن رونما ہو جائے۔ امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ متبادل اقدامات پر غور کرنے سے پہلے ہم سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا ہر ممکن موقع دے رہے ہیں۔

جنگ بندی اور معاہدہ

بین الاقوامی اور امریکی میڈیا کے مطابق، دونوں فریقین ایک جامع مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے جس کی ابتدائی مدت ساٹھ روز ہوگی اور اس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکے گی۔ اس مجوزہ معاہدے کے تحت ساٹھ روز کے دوران آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول (ٹیکس) کے بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے مستقل کھلا رکھا جائے گا، اور ایران وہاں بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں ہٹانے پر آمادہ ہو گیا ہے جس کے بدلے امریکی افواج فی الحال خطے میں ہی موجود رہیں گی اور حتمی معاہدے کے بعد ان کا انخلا شروع ہوگا۔ اس کے علاوہ اس مجوزہ امن فارمولے میں لبنان جنگ کے خاتمے کا نکتہ بھی شامل کیا گیا ہے۔

ایٹمی پروگرام اور معیشت

معاہدے کے تحت ایران اس بات کی ٹھوس یقین دہانی کرائے گا کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ یورینیم افزودگی کو محدود کرنے، اس کے پروگرام کو معطل کرنے اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنے سے متعلق محدود مدت کے مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔ ایران کے ان اقدامات کے جواب میں امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد سخت پابندیاں نرم کرے گا اور مخصوص اقتصادی پابندیوں کو ہٹایا جائے گا تاکہ ایران عالمی منڈی میں آزادانہ طور پر اپنے تیل کی فروخت شروع کر سکے اور اپنی معیشت کو سہارا دے سکے۔

کامیاب سفارت کاری

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ یا تو ہمارا ایک اچھا معاہدہ ہوگا یا پھر ہمیں اس مسئلے سے کسی اور طرح نمٹنا پڑے گا، تاہم اس وقت میز پر آبنائے ہرمز کھولنے اور نیوکلیئر معاملے پر محدود مدت کے مذاکرات کی ٹھوس اور مضبوط تجاویز موجود ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری کا یہ راستہ ہر صورت کامیاب ہو جائے گا جس سے ایک بڑی تباہی کا راستہ روکا جا سکے گا۔

دیکھیے: فیلڈ مارشل کی سفارت کاری اور اسلام آباد مذاکرات سے خطے میں جنگ کا خطرہ ٹل گیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *