کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سیکیورٹی کی سنگین صورتِ حال اس وقت مزید ابتر ہو گئی جب نامعلوم مسلح افراد نے ایک انتہائی منظم اور مہلک حملہ کر کے طالبان کے متعدد سینیئر کمانڈرز کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ افغان میڈیا اور عالمی ذرائع کے مطابق اس حملے میں نہ صرف اہم عسکری کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا بلکہ طالبان کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام بھی اس کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے ہیں، جس نے کابل کے محفوظ ترین زون کے سیکیورٹی دعوؤں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مزاحمتی گروہوں پر شبہ
طالبان حکام کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیانات میں حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ افغان سیکیورٹی حکام نے ابتدائی طور پر اس کارروائی کا الزام نامعلوم شرپسندوں پر عائد کیا ہے، جنہیں مبینہ طور پر طالبان مخالف مسلح اتحاد ‘نیشنل ریزسٹنس فرنٹ’ (این آر ایف) اور دیگر عسکری گروہوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
تاہم خطے کے دیگر ممالک کے عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ کابل کے اندر اس نوعیت کی ٹارگٹڈ کارروائی کسی بڑے نیٹ ورک کی موجودگی کا پتہ دیتی ہے۔
Unidentified Armed Individuals Killed Several Taliban Commanders in Kabul
— Afghan Times (@AfghanTimes7) May 25, 2026
KABUL, AFGHANISTAN — unidentified armed individuals reportedly carried out a deadly attack in Kabul, killing multiple Taliban-linked commanders and individuals associated with security and intelligence… pic.twitter.com/dMFmW5dHpM
پراسرار ہلاکتوں کا پس منظر
دوسری جانب، بعض مقامی اور اندرونی ذرائع نے ایک نیا پہلو اجاگر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ طالبان کے مختلف دھڑوں کے مابین پیدا ہونے والے شدید اندرونی اختلافات اور انٹیلی جنس و سیکیورٹی حلقوں میں جاری طاقت کی رسہ کشی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے، اگرچہ طالبان کی عبوری حکومت کی جانب سے اس دعوے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ حملہ ایک ایسے حساس وقت میں ہوا ہے جب افغانستان میں حالیہ پاک افغان سرحدی جھڑپوں سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے افراد اور انٹیلی جنس شخصیات کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اچانک تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
بڑھتا ہوا عدم استحکام
دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران افغانستان کے مختلف صوبوں سے ایسے پراسرار واقعات بھی مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں جن میں طالبان ارکان اور کمانڈرز کو نجی تقاریب اور شادی کی محفلوں کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے کھانے میں زہر دے کر ہلاک کیا گیا۔
کابل میں ہونے والے اس تازہ ترین حملے نے طالبان کی انٹیلی جنس کمانڈ کو شدید چیلنج کر دیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل ہوتے ہی اصل حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں گے۔