خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کا بدلحاظ چہرہ اور سیاسی ناپختگی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ صوبے میں گڈ گورننس کے بلند و بانگ دعوے محض کاغذات تک محدود دکھائی دیتے ہیں، جبکہ عملاً وزیراعلیٰ ہاؤس کے اندر افسران پر شدید دباؤ ڈالنے، غیر قانونی تبادلوں کی خواہش اور ذاتی انا کی تسکین کا تماشہ روز کا معمول بن چکا ہے۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ایک اجلاس کے دوران تمام شرکاء کے سامنے صوبے کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کی شدید تضحیک کر ڈالی۔ تاہم، بیوروکریسی کے اعلیٰ افسر نے اس سیاسی بدتمیزی کے آگے جھکنے کے بجائے انتہائی باوقار اور واضح جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے کے چیف سیکرٹری ہیں، کسی کے ذاتی ملازم نہیں ہیں۔
یہ واقعہ محض ایک تلخ جملہ نہیں بلکہ خیبر پختونخوا حکومت کی روزمرہ حکمرانی کا حقیقی خلاصہ ہے، جہاں قانون کے بجائے سفارش، میرٹ کے بجائے اقربا پروری اور ادارہ جاتی احترام کے بجائے سیاسی بدتمیزی کے ذریعے نظام چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کے پی میں کیا زبردست حکومتی سنجیدگی ہے۔۔۔۔مہمان ہیلی کاپٹر سے اتر چکا ہے۔۔۔۔اسکے سامنے ہی کارپٹ بچھایا جا رہا ہے۔۔۔۔وزیر اعلی سیاہ عینک لگا کر مہمان کا استقبال کر رہے ہیں۔۔۔آداب یہی بتاتے ہیں کہ میزبان ایسا نہیں کرتے۔۔۔۔دوران ملاقات مشیر اطلاعات ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھے… pic.twitter.com/bjmlwUSVgz
— Fawad Ahmed (@fawadnb) May 25, 2026
انتظامی بدحالی کے ساتھ ساتھ حکومتی غیر سنجیدگی کا ایک اور مظاہرہ معزز مہمان پرنس رحیم الحسینی آغا خان کے دورے کے موقع پر دیکھنے کو ملا، جہاں آدابِ میزبانی اور سرکاری وقار کو یکسر فراموش کر دیا گیا۔ حکومتی غفلت کا عالم یہ تھا کہ معزز مہمان ہیلی کاپٹر سے نیچے اتر چکے تھے اور ان کے سامنے عجلت میں کارپٹ بچھایا جا رہا تھا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سیاہ عینک لگائے غیر سنجیدہ انداز میں مہمان کا استقبال فرما رہے تھے، جبکہ باضابطہ ملاقات کے دوران مشیرِ اطلاعات تمام تر سفارتی و انتظامی آداب کو پسِ پشت ڈال کر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھے رہے۔
سفارتی اور سرکاری پروٹوکول کے ماہرین کے مطابق، آدابِ میزبانی، سرکاری وقار اور انتظامی تہذیب شاید اس حکومت کی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہیں۔ ناقدین نے مشیرِ اطلاعات کے اس رویے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کم از کم اپنے “باس” وزیراعلیٰ کے منصب کا ہی خیال کر لینا چاہیے تھا اور آدابِ مہمان نوازی کے تحت مروّت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ صوبے کا نظام ٹک ٹاک اسٹنٹس، نمائشی استقبال، سیاسی بدتمیزی اور سرکاری افسران کو نیچا دکھانے سے نہیں چلتا؛ بلکہ حکومت چلانے کے لیے سنجیدگی، قانون کی بالادستی، میرٹ اور انتظامی وقار ناگزیر ہوتا ہے۔
جب ایماندار سول سرونٹس کو غیر قانونی احکامات ماننے پر مجبور کیا جائے اور انکار پر ان کی پبلک میں تضحیک کی جائے، تو عوام پر بھی یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں اصل مسئلہ بیوروکریسی نہیں بلکہ نالائق سیاسی قیادت ہے۔
صوبے میں جاری صورتحال کو “تبدیلی” کا اصل ماڈل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا وطیرہ بن چکا ہے کہ خود کام نہ کرو، افسران سے غیر قانونی کام کرواؤ، اور اگر وہ انکار کر دیں تو انہیں طعنے دو۔ اس حکومت نے معزز مہمانوں کی میزبانی میں بھی پروٹوکول کا جنازہ نکال دیا ہے اور جب اپنی نالائقی سامنے آئے تو مظلومیت کا ڈرامہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اس وقت سیاسی بچگانہ پن اور نمائش کے بجائے حقیقی حکمرانی اور سنجیدہ قیادت کے منتظر ہیں۔