ماسکو میں افغان وزیرِ دفاع ملا یعقوب اور روسی حکام کے مابین فوجی و تکنیکی تعاون کے معاہدے پر دستخط نے تزویراتی تضادات اور خطے کی سلامتی پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

May 28, 2026

یوگنڈا سے آنے والی ایک خاتون میں ایبولا کے شبہے اور اس کے بعد بنگلور میں قرنطینہ کیے جانے کے واقعے نے بھارت کے بارڈر کنٹرول اور ہیلتھ اسکریننگ نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

May 28, 2026

ممبئی کی ایک رہائشی سوسائٹی میں قربانی کے بکرے رکھنے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جسے مبصرین بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

May 28, 2026

سفارتی ماہرین نے بھارت کے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان مخالف بیانیے کو خارجہ پالیسی کے غیر متوازن رجحان کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

May 28, 2026

کوئٹہ کی بلیلی چیک پوسٹ پر ایف سی اہلکاروں سے تصادم، پتھراؤ اور قانون شکنی کے بعد پی ٹی آئی کے مقامی رہنماء حاجی گل خان نے اپنے عمل پر ندامت کا اظہار کر دیا۔

May 28, 2026

ٹیکنالوجی پر مبنی حالیہ عسکری تنازع میں پاکستانی افواج نے معاشی حجم کے بجائے اپنے مضبوط تزویراتی عزم اور مہلک میزائل نظام کی بدولت بھارتی آپریشن سندور کو ناکام بنا دیا۔

May 28, 2026

کے پی میں سیاسی ناپختگی اور بیوروکریسی کی تضحیک: پی ٹی آئی حکومت پر شدید تنقید

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کا بدلحاظ چہرہ اور سیاسی ناپختگی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے، جہاں گڈ گورننس کے دعووں کے برعکس سرکاری وقار، انتظامی تہذیب اور آدابِ میزبانی کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔
کے پی میں سیاسی ناپختگی اور بیوروکریسی کی تضحیک: پی ٹی آئی حکومت پر شدید تنقید

خیبر پختونخوا میں گورننس کی ابتر صورتحال اور سیاسی ناپختگی عروج پر پہنچ گئی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے چیف سیکرٹری کی تضحیک اور معزز مہمان کے استقبال میں آدابِ میزبانی کی سنگین خلاف ورزیوں پر پی ٹی آئی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

May 28, 2026

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کا بدلحاظ چہرہ اور سیاسی ناپختگی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ صوبے میں گڈ گورننس کے بلند و بانگ دعوے محض کاغذات تک محدود دکھائی دیتے ہیں، جبکہ عملاً وزیراعلیٰ ہاؤس کے اندر افسران پر شدید دباؤ ڈالنے، غیر قانونی تبادلوں کی خواہش اور ذاتی انا کی تسکین کا تماشہ روز کا معمول بن چکا ہے۔

حالیہ رپورٹ کے مطابق،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ایک اجلاس کے دوران تمام شرکاء کے سامنے صوبے کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کی شدید تضحیک کر ڈالی۔ تاہم، بیوروکریسی کے اعلیٰ افسر نے اس سیاسی بدتمیزی کے آگے جھکنے کے بجائے انتہائی باوقار اور واضح جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے کے چیف سیکرٹری ہیں، کسی کے ذاتی ملازم نہیں ہیں۔

یہ واقعہ محض ایک تلخ جملہ نہیں بلکہ خیبر پختونخوا حکومت کی روزمرہ حکمرانی کا حقیقی خلاصہ ہے، جہاں قانون کے بجائے سفارش، میرٹ کے بجائے اقربا پروری اور ادارہ جاتی احترام کے بجائے سیاسی بدتمیزی کے ذریعے نظام چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انتظامی بدحالی کے ساتھ ساتھ حکومتی غیر سنجیدگی کا ایک اور مظاہرہ معزز مہمان پرنس رحیم الحسینی آغا خان کے دورے کے موقع پر دیکھنے کو ملا، جہاں آدابِ میزبانی اور سرکاری وقار کو یکسر فراموش کر دیا گیا۔ حکومتی غفلت کا عالم یہ تھا کہ معزز مہمان ہیلی کاپٹر سے نیچے اتر چکے تھے اور ان کے سامنے عجلت میں کارپٹ بچھایا جا رہا تھا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سیاہ عینک لگائے غیر سنجیدہ انداز میں مہمان کا استقبال فرما رہے تھے، جبکہ باضابطہ ملاقات کے دوران مشیرِ اطلاعات تمام تر سفارتی و انتظامی آداب کو پسِ پشت ڈال کر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھے رہے۔

سفارتی اور سرکاری پروٹوکول کے ماہرین کے مطابق، آدابِ میزبانی، سرکاری وقار اور انتظامی تہذیب شاید اس حکومت کی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہیں۔ ناقدین نے مشیرِ اطلاعات کے اس رویے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کم از کم اپنے “باس” وزیراعلیٰ کے منصب کا ہی خیال کر لینا چاہیے تھا اور آدابِ مہمان نوازی کے تحت مروّت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ صوبے کا نظام ٹک ٹاک اسٹنٹس، نمائشی استقبال، سیاسی بدتمیزی اور سرکاری افسران کو نیچا دکھانے سے نہیں چلتا؛ بلکہ حکومت چلانے کے لیے سنجیدگی، قانون کی بالادستی، میرٹ اور انتظامی وقار ناگزیر ہوتا ہے۔

جب ایماندار سول سرونٹس کو غیر قانونی احکامات ماننے پر مجبور کیا جائے اور انکار پر ان کی پبلک میں تضحیک کی جائے، تو عوام پر بھی یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں اصل مسئلہ بیوروکریسی نہیں بلکہ نالائق سیاسی قیادت ہے۔

صوبے میں جاری صورتحال کو “تبدیلی” کا اصل ماڈل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا وطیرہ بن چکا ہے کہ خود کام نہ کرو، افسران سے غیر قانونی کام کرواؤ، اور اگر وہ انکار کر دیں تو انہیں طعنے دو۔ اس حکومت نے معزز مہمانوں کی میزبانی میں بھی پروٹوکول کا جنازہ نکال دیا ہے اور جب اپنی نالائقی سامنے آئے تو مظلومیت کا ڈرامہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اس وقت سیاسی بچگانہ پن اور نمائش کے بجائے حقیقی حکمرانی اور سنجیدہ قیادت کے منتظر ہیں۔

متعلقہ مضامین

ماسکو میں افغان وزیرِ دفاع ملا یعقوب اور روسی حکام کے مابین فوجی و تکنیکی تعاون کے معاہدے پر دستخط نے تزویراتی تضادات اور خطے کی سلامتی پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

May 28, 2026

یوگنڈا سے آنے والی ایک خاتون میں ایبولا کے شبہے اور اس کے بعد بنگلور میں قرنطینہ کیے جانے کے واقعے نے بھارت کے بارڈر کنٹرول اور ہیلتھ اسکریننگ نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

May 28, 2026

ممبئی کی ایک رہائشی سوسائٹی میں قربانی کے بکرے رکھنے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جسے مبصرین بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

May 28, 2026

سفارتی ماہرین نے بھارت کے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان مخالف بیانیے کو خارجہ پالیسی کے غیر متوازن رجحان کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

May 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *