بھارت کے شہر ممبئی کی ایک رہائشی سوسائٹی میں عیدالاضحیٰ کے مقدس تہوار سے قبل قربانی کے لیے رکھے گئے بکروں پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ بھارتی میڈیا نیٹ ورک انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ممبئی کے علاقے ڈنڈوشی میں واقع میری گولڈ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں عید کی تیاریوں کے سلسلے میں قائم ایک عارضی شیڈ میں 12 بکرے رکھے گئے تھے، جس پر سوسائٹی کے مقامی ہندو رہائشیوں نے شدید احتجاج شروع کر دیا، جس کے بعد مقامی سیاسی رہنماؤں نے بھی معاملے میں مداخلت کی ہے۔
انتہا پسندی
اس واقعے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران بڑھتی ہوئی انتہا پسندی، عدم برداشت اور انتہا پسندی کی وجہ سے مسلمانوں کا روایتی و مذہبی تہوار اب ایک باقاعدہ فرقہ وارانہ فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ معمولی نوعیت کے امور کو بھی مسلم مخالفت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے معاشرتی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
مسلم شعائر
ناقدین کے مطابق مودی حکومت کے زیرِ اثر بھارت میں مسلمانوں کو ان کے مذہبی عقائد کے تحت قربانی کے جانور رکھنے، خریدنے یا ان کی تجارت کرنے پر مختلف حیلوں بہانوں سے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کی مسلم دشمن پالیسیاں ملک کو تیزی سے اندرونی عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہیں جہاں اقلیتوں کے حقوق اور جان و مال کو غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔
سیکولر دعوے؟
سیاسی و سماجی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت میں کبھی حجاب، کبھی مساجد، کبھی حلال کھانے کی مصنوعات اور کبھی عیدالاضحیٰ جیسے مسلم شعائر کو بار بار باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ متعصبانہ طرزِ عمل نئی دہلی کے بین الاقوامی سطح پر کیے جانے والے آئینی اور سیکولر دعووں کو بری طرح پامال کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی معاشرہ ایک انتہائی خطرناک اور نہ ختم ہونے والی فرقہ وارانہ تقسیم کا شکار ہو رہا ہے۔