کابل: طالبان حکومت کے اندرونی حلقوں میں دراڑیں اور سنگین اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کا واضح عکس عید کے موقع پر دیکھنے میں آیا ہے۔ افغان امور کے مبصرین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے مسلسل غیر مشروط اطاعت پر اصرار اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امارتِ اسلامیہ کے اندرونی دھڑوں میں شدید ناراضگی اور بغاوت کے اثرات گہرے ہو چکے ہیں، جسے دبانے کے لیے قندھار الائنمنٹ اب مذہبی فرامان کا سہارا لے رہی ہے۔
اطاعت کا فرمان
قندھار میں سخت ترین سکیورٹی حصار کے اندر عید کا خطبہ دیتے ہوئے طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے افغان عوام اور اپنے عہدیداروں پر غیر مشروط اور اندھی اطاعت مسلط کرنے کے لیے ایک نیا مذہبی فرمان جاری کیا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص بھی امیر کی بیعت اور اطاعت کے بغیر مرا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔
انہوں نے مزید اضافہ کیا کہ اسلام سے قبل بتوں کی پوجا کرنے والوں کی موت جاہلیت کی موت تھی اور ایسی موت بدترین موت ہے۔ ملا ہیبت اللہ نے واضح کیا کہ ان کی ہدایات اور احکامات سے انحراف کو مذہبی نافرمانی تصور کیا جائے گا۔
طالبان رجیم میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے؛ ملا ہیبت اللہ کا عید خطبے میں غیر مشروط اطاعت کا مطالبہ
— PTV News (@PTVNewsOfficial) May 29, 2026
طالبان رجیم کی صفوں میں دراڑیں گہری ہونے لگیں؛ ملا ہیبت اللہ نے اقتدار بچانے کیلئے پھر مذہب کی آڑ لے لی
قندھار میں عید خطبے کے دوران طالبان امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے… pic.twitter.com/yfhJGKONey
قندھار اور کابل کے مابین دراڑیں
بین الاقوامی ماہرینِ سلامتی اور افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ ملا ہبت اللہ کی شدید گھبراہٹ کی اصل وجہ طالبان حکومت کے اندرونی دھڑوں کے مابین بڑھتی ہوئی شدید بغاوت اور سنگین اختلافات ہیں۔ مبصرین کے مطابق امیر کی جانب سے بار بار غیر مشروط اطاعت کا تقاضا ظاہر کرتا ہے کہ قندھار (جہاں امیر مقیم ہیں) اور کابل (جہاں حکومت کے اہم وزراء موجود ہیں) کے مابین خلیج بہت گہری ہو چکی ہے۔ سراج الدین حقانی سمیت کابل حکومت کے متعدد سینیئر وزراء اور رہنما پہلے ہی ملا ہبت اللہ کی سخت گیر پالیسیوں کو علانیہ اور خفیہ طور پر مسترد کر چکے ہیں۔
نافرمانی پر انتشار کی دھمکی
طالبان امیر نے اپنے خطبے میں خبردار کیا ہے کہ اگر عوام اور حکومتی ارکان نے افغان حکومت کی اطاعت نہ کی تو ملک میں شدید بے امنی، بدامنی اور انتشار سر اٹھائے گا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امیر کی طرف سے ایسا سخت موقف سامنے آیا ہو؛ افغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس سے قبل 17 اپریل کو وزارتِ خزانہ کے حکام کو جاری کردہ ایک بیان میں بھی ملا ہبت اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ میری اطاعت اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے مماثل ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اپنی طاقت اور اقتدار کو بچانے کے لیے ملا ہبت اللہ کی جانب سے مذہب کا یہ سیاسی استعمال ان کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت کا عکاس ہے۔