سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ سے متصل سرحدی علاقے درہ آدم خیل میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی دو کامیاب آپریشنز کے دوران ‘فتنہ الخوارج’ (تحریکِ طالبان پاکستان) کے 11 دہشت گردوں کو ہلاک اور ایک کو زندہ گرفتار کر لیا ہے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔
شدید جھڑپ
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پہلا آپریشن درہ آدم خیل کے علاقے ‘تور چھپر’ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کیا گیا۔ فورسز کے جائے وقوعہ پر پہنچتے ہی وہاں روپوش دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ سکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے بدنامِ زمانہ ‘طارق گیدڑ آفریدی گروپ’ سے تعلق رکھنے والے 6 دہشت گرد مارے گئے۔
افغان شہریوں کی شناخت
ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں سے چار کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں زورخیل کا رہائشی داؤد ولد صاحب شاہ اور اخورخیل کا حمزہ شامل ہیں، جبکہ دو دہشت گردوں قاری زینت اللہ افغانی اور قاری لوانگین افغانی کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے۔ باقی دو ہلاک شدگان کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے۔
سرچ آپریشن
اسی علاقے تور چھپر میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے فورسز کی جانب سے ایک الگ سرچ آپریشن بھی کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں طارق گیدڑ گروپ کے مزید 5 دہشت گرد جہنم واصل کر دیے گئے، جبکہ انتہائی اہم کامیابی کے طور پر ایک دہشت گرد کو زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے، جسے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
دہشت گردی اور عزم
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں علاقے میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے اور ان کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے جاری منظم سکیورٹی اقدامات کا حصہ ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز کا یہ سلسلہ بلا تفریق جاری رہے گا اور معصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔