کابل: حزب التحریر ولایتِ افغانستان کے دفترِ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم پریس ریلیز میں ماسکو بین الاقوامی سلامتی فورم کے موقع پر افغانستان اور روسی فیڈریشن کے درمیان طے پانے والے عسکری و تکنیکی تعاون کے معاہدے پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ حزب التحریر نے اس معاہدے کے مندرجات اور دائرۂ کار کو عوام کے سامنے شفاف انداز میں پیش نہ کرنے پر سوالات اٹھائے ہیں اور واضح کیا ہے کہ روس ایک استعماری طاقت اور اسلام و مسلمانوں کا تاریخی دشمن ہے، جس کے ساتھ حساس شعبوں میں ایسا تعاون ملکی اور امتِ مسلمہ کے تزویراتی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
بیان میں افغان وزیرِ دفاع اور روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کی موجودگی میں ہونے والے اس معاہدے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی عسکری یا تکنیکی تعاون کے لیے شرعی احکام، اسلامی امت کے مفادات اور افغانستان کی مکمل خودمختاری کو اولین ترجیح ہونی چاہیے، تاکہ ملک کو عالمی طاقتوں کی باہمی کشمکش کا میدان بننے سے بچایا جا سکے۔
اعلامیه مطبوعاتی
— حزب التحریر افغانستان (@HTAFMediaOffice) June 1, 2026
روسیه کشور استعمارگر و
دشمن تاریخی اسلام و مسلمانان بوده و امضای توافقنامهٔ
نظامی ـ تخنیکی با این کشور نگرانکننده است
در حاشیهٔ فورم بینالمللی امنیتی مسکو، میان دولت افغانستان و فدراسیون روسیه توافقنامهای در زمینهٔ همکاریهای نظامی و تخنیکی، با حضور وزیر… pic.twitter.com/FX7PEaYeWg
حزب التحریر نے روس کے تاریخی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلافتِ عثمانیہ کی تقسیم، وسطی ایشیا اور قفقاز پر غلبہ، افغانستان پر ماضی کا قبضہ، چیچنیا میں خونریز کاروائیاں، اور حالیہ دور میں شام میں فوجی مداخلت سمیت افریقہ میں بڑھتا ہوا روسی اثر و رسوخ اس بات کا ثبوت ہیں کہ روس کی خارجہ پالیسی اب بھی استعماری مفادات پر مبنی ہے۔
حزب التحریر نے افغان حکمرانوں اور مجاہد عوام پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی تقویٰ، بصیرت اور دوراندیشی کا مظاہرہ کریں اور بیرونی طاقتوں کو اپنے سیاسی و عسکری فیصلوں پر اثرانداز ہونے کا موقع نہ دیں۔ پریس ریلیز میں شرعی اصولوں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عسکری وسائل کا حصول اور استعمال صرف اسلام کی عالمی سربلندی، اسلامی ریاست کے تحفظ اور مظلوموں کی مدد کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ محض قومی مفادات کے لیے۔
بیان کے آخر میں تاکید کی گئی ہے کہ مسلمانوں کی حقیقی عزت اور سلامتی خلافتِ راشدہ ثانیہ کے زیرِ سایہ سیاسی، فکری اور جغرافیائی وحدت کے قیام میں پنہاں ہے، جس کے بغیر امت کے عظیم وسائل اور افرادی قوت منتشر اور دوسروں کی محتاج رہے گی۔