اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ محمد آصف نے افغان طالبان کی نیت اور پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کی انتظامیہ پر کسی صورت اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ افغان قیادت کی جانب سے اتنے زیادہ مکسڈ سگنلز (مبہم اشارے) ملتے ہیں کہ ان کی باتوں پر اعتبار کرنا پاکستان کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا پر آنے والی رپورٹس کے برعکس زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں اور کابل حکومت کی طرف سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی حمایت اور سرپرستی میں عملی طور پر کوئی کمی نہیں آئی۔
تحریری ضمانت سے انکار
وزیرِ دفاع نے پاک افغان سفارتی روابط کے پسِ پردہ حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا کہ افغان طالبان کے حکام جب بھی پاکستانی وفود سے ملاقات کرتے ہیں تو زبانی طور پر ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو روکنے اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، لیکن جب ان سے یہی باتیں تحریری طور پر لکھ کر دینے کا مطالبہ کیا جائے تو وہ صاف انکار کر جاتے ہیں۔
“Trusting Afghanistan is very dangerous for Pakistan because their behaviour does not match their words. They have said that we will stop them (TTP) but they are not ready to put this in writing.” Said Defence Minister Khwaja Asif on Shahzeb’s show. While answering the question… pic.twitter.com/aQ8mmqxOhj
— Iftikhar Firdous (@IftikharFirdous) June 1, 2026
خواجہ آصف نے اصرار کیا کہ تحریری ضمانت دینے سے یہ گریز اور ہچکچاہٹ ہی ان کی بری نیت اور غیر سنجیدگی کا سب سے بڑا اور واضح اشارہ ہے۔
سہ فریقی معاہدے کی ناکامی
خواجہ آصف نے ماضی کے ایک اہم تزویراتی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی ثالثی یا شمولیت کے ساتھ پاکستان اور افغان طالبان کے مابین ایک باقاعدہ سہ فریقی تحریری معاہدہ طے پایا تھا، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس معاہدے کے تینوں بنیادی نکات پر افغان طالبان کی جانب سے کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
انہوں نے زور دیا کہ عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے کوئی بھی پیغام کسی میڈیا رپورٹ کے بجائے براہِ راست افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے آنا چاہیے، کیونکہ ان کے قول و فعل کا یہ تضاد خطے کے امن اور دوطرفہ تعلقات کے لیے مسلسل نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
دیکھیے: افغان سرزمین سے خطرات: پاک چین کا انسدادِ دہشت گردی پر مشترکہ حکمتِ عملی کا فیصلہ